menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kasb e Kamal Kun: Chacha Haji Sahab

49 0
16.09.2026

کسبِ کمال کُن: چاچا حاجی صاحب

كسب كمال كُن كہ عزيزِ جہان شوى

كس بے كمال ہيچ نيرزد، عزيزِ من!

چاچا حاجی صاحب، جن کا اصل نام محمد خان تھا، ہمارے خاندان کی ان نایاب شخصیات میں سے تھے جنہیں یاد کرتے ہوئے دل پر ایک عجیب سی نمی اترتی ہے۔ وہ صرف ایک انسان نہیں تھے بلکہ ایک پورا زمانہ تھے، ایک تہذیب تھے، ایک ایسی خوشبو تھے جو اب مٹی میں کہیں دفن ہو چکی ہے مگر یادوں کے دریچوں سے آج بھی آہستہ آہستہ اٹھتی رہتی ہے۔ وہ ہمارے خاندان اور آس پاس کے وسیع علاقے کی پہلی شخصیت تھے جنہیں حجِ بیت اللہ کی سعادت نصیب ہوئی۔ اس مقدس سفر کے بعد وہ محمد خان نہ رہے بلکہ ہمیشہ کے لیے "حاجی صاحب" بن گئے۔

ہم بچوں کی زبان پر ان کے لیے ہمیشہ "چاچا حاجی" ہی رہا۔ ان کے چہرے پر عجیب سی شفقت تھی، لہجے میں مٹھاس، گفتگو میں محبت اور رویّے میں ایسی اپنائیت کہ ان کے قریب بیٹھ کر کبھی خوف محسوس نہ ہوتا۔ وہ چاچا کم اور دوست زیادہ لگتے تھے۔ ہم سے بے پناہ محبت کرتے، دعائیں دیتے اور بار بار کہتے کہ تم لوگوں نے پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننا ہے، دنیا میں نام پیدا کرنا ہے، کمال حاصل کرنا ہے۔ اکثر "وڈی ما" کو بتایا کرتے کہ انہوں نے خانہ کعبہ کے سامنے کھڑے ہو کر ہمارے لیے دعائیں مانگی تھیں کہ یہ بچے زندگی میں کامیاب ہوں اور دنیا کی آنکھوں کا تارا بنیں۔ افسوس کہ ہم ان کی خواہشات کے مطابق نہ بن سکے۔ زندگی کے میدان میں بہت کچھ حاصل کرنے کے باوجود اندر کہیں نہ کہیں یہ احساس ہمیشہ زندہ رہا کہ ہم اس عظیم انسان کی امیدوں پر پورا نہ اتر سکے۔

وہ رسمی تعلیم کے اعتبار سے صرف پرائمری پاس تھے مگر عملی زندگی نے انہیں جو شعور دیا تھا وہ بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگوں کے حصے میں بھی کم ہی آتا ہے۔ ان کی سوچ وسیع تھی، مشاہدہ گہرا تھا اور گفتگو میں دانائی جھلکتی تھی۔ دوسری جنگِ عظیم میں اٹلی تک جا کر لڑے،........

© Daily Urdu (Blogs)