Maqsad Ka Hasool
سیگمنڈ فرائیڈ 1856ء کو آسٹریا میں پیدا ہوا۔ اسے علم نفسیات کے بانی کے طور پر جانا جاتا ہے، جس نے انسانی ذہن کو سمجھنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا، وہ ایک ذہین طالب علم تھا اور ابتدا سے ہی اس نے طب (Medicine) کی تعلیم حاصل کی۔ بعد میں وہ دماغی اور اعصابی امراض کا ماہر (Neurologist) بنا۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کی دلچسپی انسانی رویے اور ذہن کے رازوں کو سمجھنے میں بڑھتی گئی۔
فرائیڈ نے یہ نظریہ پیش کیا کہ انسان کا ذہن صرف وہ نہیں جو ہم دیکھ یا سوچ سکتے ہیں، بلکہ اس کے پیچھے ایک بڑا حصہ لاشعور (Unconscious Mind) بھی ہوتا ہے۔ ان کے مطابق ہماری بہت سی خواہشات، خوف اور یادیں اسی لاشعوری ذہن میں چھپی ہوتی ہیں اور ہمارے رویے پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ فرائیڈ نے انسانی شخصیت کو تین حصوں میں تقسیم کیا: Id: یعنی بنیادی خواہشات اور لذت چاہنے والا حصہ، دوسرا (Ego) یعنی حقیقت کو دیکھ کر فیصلہ کرنے والا اور تیسرا (Superego) اخلاقیات اور ضمیر کی آواز۔
یہ نظریہ آج بھی نفسیات میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ سیگمنڈ فرائیڈ نے یہ ثابت کیا کہ انسان صرف ظاہری اعمال کا مجموعہ نہیں بلکہ اس کے اندر ایک گہری اور پیچیدہ ذہنی دنیا موجود ہے۔ اس کا کام آج بھی انسانی ذہن کو سمجھنے کی کوششوں میں ایک بنیادی ستون کی حیثیت رکھتا ہے۔ سیگمنڈ فرائیڈ کا والد اون (wool) کی تجارت کرتا تھا اور وہ آسٹریا (ہنگری) کے ایک یہودی خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ میں یہودیوں کے خلاف ماحول کافی کشیدہ تھا اور بہت سے لوگ ان سے نفرت رکھتے تھے۔
سیگمنڈ فرائیڈ کی عمر صرف 8-9 سال کے قریب تھی، وہ اپنے والد کے ساتھ آسٹریا کے شہر ویانا (Vienna) کی ایک سڑک پر چل رہا تھا اور اپنے والد کا ہاتھ مضبوطی سے تھامے ہوئے تھا۔ اچانک سامنے سے کچھ عیسائی لڑکے آئے۔ ان کے رویے میں غصہ اور تعصب تھا۔ انہوں نے فرائیڈ کے والد کو روک لیا اور ان پر تشدد شروع کر دیا۔ ان کی ٹوپی زمین پر گرا دی اور ان کے کپڑے بھی پھاڑ دیے لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ فرائیڈ کے والد نے لڑکوں کو کوئی جواب نہیں دیا۔ نہ لڑا، نہ چیخا، نہ ہی بدلہ لیا۔ وہ خاموشی سے سب کچھ برداشت کرتا........
