menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Corruption Ki Factory, Bureaucracy Aur Naye Nizam Ki Bazgasht

28 0
05.08.2026

کرپشن کی فیکٹری، بیوروکریسی اور نئے نظام کی بازگشت

خبر ہے کہ پاکستان نے 2022 سے 2026 تک 13275 ارب روپے آئی پی پیز کو ادا کئے ہیں جن میں سے 7286 ارب روپے کیپسٹی چارجز (بغیر بجلی خریدے)کی مد میں ہیں۔ آفریں ہے ایسے معاہدے کرنے، کرانے والوں پر اور اس نظام کے صبر و استقلال پر کہ جس نے ان سے باز پرس کیا کرنا تھی ان معاہدوں کے تخلیق کار شاطر دماغ بیوروکریٹس کو اس کے بعد ترقیاں بھی ملیں اور تمغے بھی جبکہ ان کے سرپرست سیاست دان و حکمران آج تک اس سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔

اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بدعنوانی بیوروکریسی کی معاونت کے بغیر ممکن نہیں مگر جب سیاست اور بیوروکریسی کا گڑھ جوڑ بن جائے تو اربوں ڈالر کے قرضے ضائع ہوجاتے ہیں تو سونا اگلتے کھلیان، معدنیات سے لبریز زمینیں اور جفاکش عوام سب بے فائدہ۔ کنویں سوکھ جاتے ہیں اور ہریالی خشک! سندھ میں وڈیرہ ازم اور بدعنوانی کا راج جبکہ پنجاب میں بیوروکریسی نے ایسے پنجے گاڑھ رکھے ہیں کہ اس کے اثرات سات سمندر پار تک، اہم عہدوں پر فائز افسران نے اربوں کیسے کمائے اور پھر باہر سرمایہ کاری کیسے کی؟

خواجہ آصف کا مشہور زمانہ پرتگالی بیان ابھی بھی کانوں میں گونجتا ہے مگر حوصلہ ہمارے نظام احتساب، نظام انصاف اور مقتدرین کا کہ وزیر دفاع جیسے اہم ترین فرد کے اربوں کی کرپشن و منی لاندرنگ کے بیان کو ایسے پی گئی جیسے غریب کا بچہ پیپسی۔ ادھر KP میں آئے روز کرپشن کے سکینڈلز میڈیا کی زینت بنتے ہیں تو کبھی آڈیٹر جنرل........

© Daily Urdu (Blogs)