menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سید مظہر حسین نوشاہی: 2026 ...

14 4
03.01.2026

کچھ لوگ امید کا چراغ جلائے رکھتے ہیں اور لوگ امیدوں کے سہارے جئے جاتے ہیں اس دعا کیساتھ شاہ صاحب کی گفتگو تحریر کر رہا ہوں کاش ایسا ہو جائے اور لوگوں کی زندگی میں آسانیاںہو جائیں اللہ اس قوم کے غریبوں کی قسمت بدل دے ہرماہ پیدا ہونے والے چار لاکھ بچے ہر سال بڑھتے ہوئے پندرہ لاکھ بیروزگار کاش خوابوں کی تعبیر پا سکیں ان کے گھروں میں بھی خوشی کے شادیانے بج سکیں اللہ سے امید کے ساتھ سال محض دنوں اور مہینوں کی ترتیب کا نام نہیں ہوتے، بعض سال قوموں کے شعور پر دستک دیتے ہیں اور بعض سال اْن کے دروازے کھلوا دیتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ جن قوموں نے وقت کے اشارے کو سمجھ لیا، وہ آگے بڑھ گئیں اور جنہوں نے اسے محض اتفاق سمجھ کر نظر انداز کیا، وہ پیچھے رہ گئیں۔ سید مظہر حسین نوشاہی کی نگاہ میں سال 2026 پاکستان کے لیے ایسا ہی ایک فیصلہ کن موڑ ہے، جہاں بات صرف امید کی نہیں بلکہ عمل، محنت اور بیداری کی ہے۔
پاکستان کی تاریخ آزمائشوں سے بھری ہوئی ہے۔ آزادی کے بعد کبھی سیاسی عدم استحکام، کبھی معاشی دباؤ، کبھی ادارہ جاتی کمزوری اور کبھی عالمی حالات کا بوجھ۔ مگر اس تمام عرصے میں سب سے بڑا نقصان قوم کے اعتماد کو پہنچا۔ 2024 کے بعد جو تبدیلی محسوس کی گئی، وہ محض حالات کی تبدیلی نہیں تھی بلکہ سوچ کے زاوئیے میں ایک ہلکی سی جنبش تھی۔ 2026 اسی جنبش کو مضبوط قدم میں بدلنے کا سال ہے۔ شاہ صاحب کے مطابق یہ وہ مرحلہ ہے جہاں قوم ترقی و خوشحالی کے تیسرے دور میں داخل ہو رہی ہے اور تیسرا دور کبھی سہولتوں کا نہیں بلکہ امتحان کا دور ہوتا ہے۔
یہ سال بھاگ دوڑ، مسلسل محنت اور سخت حالات کا سال ہے۔ جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ترقی کسی اعلان، کسی رعایت یا کسی وقتی فائدے سے آتی ہے، وہ اس سال مایوس ہو سکتے ہیں۔ لیکن جو لوگ خاموشی سے کام کرتے ہیں، وقت کی قدر کرتے ہیں اور........

© Nawa-i-Waqt