پاکستان 2025: عالمی طاقتوں ...
مئی 2025 کے بعد کا عالمی منظرنامہ اس بات کا عملی ثبوت بن گیا کہ ریاستوں کی اصل آزمائش جنگ کے دوران نہیں بلکہ جنگ کے فوراً بعد شروع ہوتی ہے۔ طاقت آزمانا ایک مرحلہ ہوتا ہے، مگر طاقت کو سمیٹ کر نتیجہ خیز امن میں بدل دینا ایک کہیں زیادہ مشکل مرحلہ ہے۔ پاکستان کے لیے یہی وہ موڑ تھا جہاں اس کی ملٹری ڈپلومیسی محض عسکری مہارت نہیں بلکہ ریاستی دانش کی صورت میں دنیا کے سامنے آئی۔دنیا نے یہ مشاہدہ کیا کہ پاک بھارت جھڑپ کے فوراً بعد پاکستان نے فتح کے بیانیے، داخلی جذبات انگیزی یا سفارتی جارحیت کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس، ریاستی سطح پر ایک واضح فیصلہ نظر آیا، کشیدگی کو زیادہ سے زیادہ محدود رکھنا، رابطوں کو کھلا رکھنا، اور عالمی ثالثی کو طاقت کی نفی کے بجائے طاقت کے درست استعمال کے طور پر قبول کرنا۔ یہ فیصلہ کسی کمزور ریاست کا نہیں بلکہ ایک پراعتماد ریاست کا فیصلہ تھااور یہی نکتہ عالمی دارالحکومتوں میں گہرائی سے نوٹ کیا گیا۔
اس مرحلے پر عاصم منیر کی قیادت ایک بار پھر مرکزی حیثیت اختیار کر گئی۔ عالمی عسکری و سفارتی حلقوں میں یہ تاثر مضبوط ہوا کہ پاکستان کی فیصلہ سازی کسی........
