ایران امریکہ مذاکرات: سوئی کے ناکے سے اونٹ نکل جائے گا؟
تہران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام تک مذاکرات کو محدود کرنے کے لئے مقام کی تبدیلی کی درخواست کے بعد عمان میں ایران امریکہ مذاکرات ہونے والے ہیں، جس میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی، ایرانی عہدیدار کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے لئے پیشگی شرائط نہیں ہونی چاہئیں، رائٹرز کے مطابق تہران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کو استنبول سے عمان منتقل کرنے کا فیصلہ اس لئے کیا تا کہ یہ بات چیت ان مذاکرات کا تسلسل ہو جو عمان کی ثالثی میں ایران کے جوہری پروگرام پر شروع ہوئے تھے۔
ایران امریکہ مذاکرات میں پاکستان، سعودی عرب، قطر ، مصر اور متحدہ عرب امارات سمیت خطے کے کئی دیگر ممالک کے وزراء کی بھی شرکت متوقع تھی، لیکن تہران صرف امریکہ کے ساتھ دو طرفہ مذاکرات چاہتا ہے، امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق مذکرات آج عمان میں ہونے کی توقع ہے، مزید برآں امریکی نیوز ویب سائٹ کا دعویٰ ہے کہ امریکہ نے ایران کو آگاہ کیا ہے کہ وہ آج ہونے والے مجوزہ مذاکرات کے مقام اور طریقہ کار میں تبدیلی سے متعلق ایران کے مطالبات قبول نہیں کرے گا۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام نے مقام کی تبدیلی کی درخواست پر غور ضرور کیا لیکن اسے مسترد کر نے کا فیصلہ کیا، ویب سائٹ کے مطابق ایک سینئر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ہم نے ان سے کہا کہ یا تو یہی ہوگا یا کچھ نہیں ہو گا اور انہوں نے جواب دیا ٹھیک ہے، پھر کچھ نہیں۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے........
