پاکستان کا ایجنڈا 2026 کیا ہونا چاہیے؟
نئے سال کا آغاز اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ملک کو درپیش باہم جڑے چیلنجز پر سنجیدگی سے غور کیا جائے، بنیادی مسائل کی نشاندہی کی جائے اور یہ سوچا جائے کہ آگے کیا کرنا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا قومی ایجنڈا تشکیل دیا جائے جس پر سیاسی اتفاقِ رائے قائم ہو سکے اور ملک کو پائیدار سیاسی اور معاشی استحکام کی راہ پر ڈالا جا سکے۔
سب سے پہلا کام حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مفاہمت کے ذریعے ایک پُرسکون اور پرامن سیاسی ماحول قائم کرنا ہونا چاہیے۔ منقسم اور شدید طور پر پولرائزڈ قوم کبھی مستحکم ملک نہیں بن سکتی۔ اگرچہ باہمی عدم اعتماد کے باعث یہ مشکل ہے، تاہم سیاسی جماعتوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو چاہیے کہ وہ مسلسل کشیدگی اور تصادم کو کم کرنے کی کوشش کریں، کیونکہ یہی صورتحال ملک میں بے یقینی اور انتشار پیدا کر رہی ہے۔
تحریک انصاف ایک ایسی حکومت سے بات چیت پر آمادگی ظاہر کر رہی ہے جسے وہ اب تک جائز نہیں مانتی۔ یہ ایک موقع ہے جو زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتا۔ پیپلز پارٹی کے رہنما بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ بیان جس میں انہوں نے سیاسی مفاہمت کی بات کی، ایک مثبت قدم ہے جسے آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
حکومت نے وقتاً فوقتاً مذاکرات کی پیشکش تو کی ہے، مگر اس میں سنجیدگی کا فقدان رہا ہے۔ اکثر ایسی پیشکشوں کے ساتھ اپوزیشن کو شیطان صفت بنا کر پیش کرنے والی زبان بھی استعمال کی گئی۔ اس کے علاوہ پارلیمان کو محض ربر اسٹیمپ کے طور پر استعمال کرنا، آئینی ترامیم کو زبردستی منظور کرا کے عدلیہ کی خودمختاری کو کمزور کرنا اور اپوزیشن و اختلافِ رائے کے خلاف کریک ڈاؤن........
