Munazra, Dalail Aur Shawahid (2)
جاوید اختر نے مناظرے میں خدا کے وجود پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا خدا ہے جس کے ہوتے ہوئے غزہ میں معصوم بچے ہلاک ہوگئے، اس نے اتنا بڑا ظلم ہوتے ہوئے دیکھا مگر اس ظلم کو روکا نہیں۔ دوسری جانب بھی بھارت کا ایک مسلمان بیٹھا تھا جو اپنی مجبوریوں کے باعث حقائق بتانے سے گریزاں رہا، ورنہ دوسری جانب کسی اور ملک کا باشندہ ہوتا تو جاوید اختر سے یہ پوچھنے میں حق بجانب ہوتا کہ آپ یہ بات نیک نیّتی سے یا شہدائے غزہ کی ہمدردی میں ہر گز نہیں کہہ رہے، کیونکہ آپ کا وزیراعظم مودی اور اسرائیل کا قاتل وزیراعظم نیتن یاہو ایک دوسرے کے سب سے قریبی دوست اور اتحادی ہیں۔
بھارت کا اسرائیل کے ساتھ ملٹری الائنس ہے اور اسرائیل کے تمام شیطانی ہتھکنڈوں میں بھارت کی حکومت کا مکمل تعاون اور سپورٹ شامل ہوتی ہے، آپ نے ہزاروں معصوم بچوں کے قاتل اسرائیل کی درندگی میں پوری طرح ساتھ دینے پر کبھی نریندر مودی کی مذمّت کی ہے؟ آپ نے کبھی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ معصوم بچوں کے قاتل اسرائیل سے ہر قسم کے تعلقات ختم کردے؟ بالکل نہیں۔ آپ نے تو کبھی اسرائیل کی مذمّت بھی نہیں کی۔
اس کے علاوہ آپ کی حکومت اور آپ کی فورسز ایک لاکھ سے زیادہ بے گناہ کشمیریوں کو شہید اور ہزاروں کشمیری خواتین کی عصمتیں پامال کر چکی ہیں۔ کیا آپ نے انسانی ہمدردی کے تحت کبھی کشمیر کی مظلوم خواتین کے حق میں آواز اٹھائی ہے؟ بے شمار کشمیری نوجوان کئی کئی سالوں سے بھارت کی جیلوں میں گل سڑ رہے ہیں۔ کیا وہ انسان نہیں ہیں؟ آپ کے اندر کبھی انسانیت جاگی ہے اور آپ کے منہ سے ان بے گناہوں کے لیے ہمدردی کا کبھی ایک لفظ بھی نکلا ہے؟ ہر گز نہیں۔ جاوید اختر کو یہ بھی بتانا ضروری تھا اور شاید تمام ملحدین یہ سن کر چونک اٹھیں کہ وہ اوصاف جنھوں نے انسان کو حیوانوں سے ممتاز کیا ہے اور انسانی معاشروں کو وحشیانہ خون ریزی سے بچانے اور اسے انسانوں کے رہنے کے قابل بنایا ہے، وہ تمام اوصاف کسی بے جان فطرت اور بے شعور کائنات نے نہیں خالقِ کائنات نے عطا کیے ہیں۔ عدل، انصاف، رحم، انسانی مساوات اور انسانی ہمدردی جیسے اعلیٰ ترین تصورات انسانی نہیں آسمانی ہیں، یہ کسی یونانی، ایرانی یا یورپی فلسفی کے ایجاد کردہ........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin