menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Munazra, Dalail Aur Shawahid (1)

14 23
31.12.2025

پچھلے دنوں بھارت کے معروف فلمی شاعر جاوید اختر اور ندوہ کے فارغ التحصیل ایک نوجوان اسکالر مفتی شمائل ندوی کے درمیان جو مباحثہ یا مناظرہ ہوا، وہ پاکستان میں بھی دلچسپی سے دیکھا گیا۔ ایک تو وجودِ الٰہی کے بارے میں جب بھی اور جہاں بھی بات ہوگی مسلمان اسے دلچسپی سے سنیں گے، دوسرا یہ کہ بھارت میں مودی حکومت نے خاص منصوبہ بندی کے تحت مسلمانوں کی زندگی عذاب بنا دی ہے، وہ سماجی، معاشی اور سیاسی طور پر دلّتوں سے بھی نیچے چلے گئے ہیں۔

اب وہ اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کھو چکے ہیں اور ان کی نئی نسل زندہ رہنے کے لیے اپنے اسلامی نام چھپانے یا تبدیل کرنے پر مجبور ہے، ان دگرگوں حالات میں کچھ معروف لوگوں نے مختلف حربے استعمال کرنا شروع کردیے ہیں، کچھ نے ہندو عورتوں سے شادیاں کرلی ہیں اور کچھ جاوید اختر جیسے اسلام سے لاتعلقی کا اعلان کرتے پھرتے ہیں۔

جاوید اختر اپنے آپ کو مودی سرکار کے ہاں قابل قبول بنوانے کے لیے اللہ کے وجود کا انکار کرتا ہے اور اکثر اسلام اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی بھی کرتا رہتا ہے۔ مئی 2025کی پاک بھارت جنگ کے دوران اُس نے میڈیا پر کہا تھا کہ اگر اسے پاکستان اور دوزخ میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو تو وہ دوزخ کا انتخاب کرے گا۔

اس بیان کے باعث پاکستان کے عوام وخواص میں جاوید اختر کے بارے میں ناپسندیدگی کے جذبات پائے جاتے تھے۔ پہلی نظر میں مناظرہ یا مقابلہ غیر متوازن (Uneven) نظر آتا تھا کیونکہ ایک جانب لفظوں سے کھیلنے والا ایک شاعر اور مکالمہ نگار تھا جو لفاظی کا استعمال خوب جانتا ہے اور دوسری طرف ایک دینی مدرسے کا پڑھا ہوا نوجوان تھا جن کے بارے بارے میں عمومی تاثر یہی ہے کہ وہ جدید علوم اور فلسفے سے ناآشنا ہوتے ہیں اور انگریزی زبان کی تو بالکل ہی شدھ بدھ نہیں رکھتے۔ مگر اس مناظرے میں لاکھوں لوگوں نے خود دیکھا کہ نوجوان اسکالر انگریزی اصطلاحات کا استعمال بھی جانتا ہے اور موضوع سے متعلق فلسفیانہ نقاط سے بھی آشنائی رکھتا ہے۔

جاوید اختر نے لفاظی کا سہارا لیا اور وہی گھسے پٹے سوال کیے جو........

© Daily Urdu