Muashra Atomize Ho Huka
معاشرہ ایٹمائز ہو چکا
میرا خیال ہے کہ شہروں میں رہنے والے لوگوں کو اس بات کا یا تو تجربہ ہی نہیں رہا، یا پھر وہ یہ بھول چکے ہیں کہ صرف ایک دو نسلیں قبل تک ہماری معاشرت کی اصل نوعیت کیا تھی۔ ہم نے اپنی یادداشت میں اپنے دادا کو کبھی ایسا دن گزارتے نہیں دیکھا جب وہ اپنی بہن سے ملنے نہ گئے ہوں۔ ہم نے اپنے نانا کو اپنی بہن کی اولاد کے حق کی خاطر اپنی جان خطرے میں ڈالتے دیکھا ہے۔ ہماری نانی خاندان کی حقیقی حکمران تھیں اور ان کی آنکھ کا ایک اشارہ بھی حکم ہوتا تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی اس تمام تر حکمرانی کا محور اپنے بچوں کے باپ یعنی اپنے شوہر کی عزت، احترام اور رہنمائی کو یقینی بنانا تھا۔ ہمارے والد کی سوتیلی نانی (سگی نانی کی چھوٹی بہن) پورے خاندان کو چلاتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں بیٹیاں زیادہ دی تھیں اور ان کے تمام دامادوں میں اتنی جرات نہیں ہوتی تھی کہ ان کی بات ٹال سکیں۔
میں اگر اپنے بچپن کی مجموعی معاشرت کو دیکھوں تو مجھے ہر طرف عورتوں کا اقتدار ہی نظر آتا ہے۔ مردوں کے تو زمینوں، رشتوں اور خاندانی تنازعات کے جنجال چل رہے ہوتے تھے جبکہ پورے معاشرے کی اخلاقی ڈور عورتوں کے ہاتھ میں ہوا کرتی تھی۔
اب یقیناً وہ ماحول باقی نہیں رہا معاشرہ اب مکمل طور پر ایٹمائز (Atomize) یعنی ریزہ ریزہ ہو چکا ہے۔ شہروں میں تو انسان کسی ترقی پذیر ملک میں رہتے ہوئے بھی ریاست اور معاشی سسٹم کی قید میں اتنا ہی جکڑا ہوا ہے جتنے کسی ترقی یافتہ ملک کے لوگ ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ سسٹم انسان کے نفس تک جو رسائی حاصل کر چکا ہے اس میں امیر، غریب، پڑھے لکھے یا ان پڑھ کی اب کوئی تفریق باقی نہیں رہی۔ انسان اب اپنے ہی پیسے خرچ کرکے خود کو اس سسٹم کی شرائط پر ایک شے (Object) کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ اس وقت سوشل میڈیا، میوزک اور پوری انٹرٹینمنٹ انڈسٹری کے ذریعے انسانی معاشروں میں باقاعدہ انسانوں کی پروگرامنگ (programming) کی جا رہی ہے اور سوشل میڈیا کی وجہ سے اس........
