menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hum Gaza Ko Nahi Bhoolay

29 0
03.09.2026

یہ بات شاید ان لوگوں کے لیے معمولی ہو جو چند دن کی خبروں کے بعد اگلی خبر کی طرف بڑھ جاتے ہیں جن کے لیے ایک انسان کی موت صرف ایک عدد ہے ایک گھر کا ملبہ صرف ایک تصویر ہے اور ایک یتیم بچہ صرف چند لمحوں کی جذباتی کیفیت مگر غزہ ہمارے لیے خبر نہیں۔ غزہ ایک سوال ہے ایک ایسا سوال جو آج بھی ملبے کے ڈھیر پر بیٹھا دنیا سے پوچھ رہا ہے کہ اگر انسان کی جان واقعی قیمتی ہے تو پھر میری جان اتنی سستی کیوں ہے؟

اگر بچے واقعی معصوم ہوتے ہیں تو غزہ کے بچے کس قانون کے تحت معصوم نہیں؟ اگر انسانی حقوق واقعی آفاقی ہیں تو فلسطینی انسان ان حقوق کی فہرست میں کہاں کھڑا ہے؟ اور اگر دنیا واقعی مہذب ہے تو پھر غزہ کے ملبے سے اٹھتا دھواں اس تہذیب کے آسمان تک کیوں نہیں پہنچتا؟ سوال بہت ہیں جواب شاید کسی کے پاس نہیں یا شاید جواب سب کے پاس ہے مگر بولنے کی ہمت کسی کے پاس نہیں سب بیغیرتی کی چادر اوڑھے تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

دنیا نے غزہ کو ایک خبر بنا دیا ایک زمانہ تھا جب انسان کی لاش دیکھ کر انسان کانپ جاتا تھا اب کیمرہ لاش پر جاتا ہے خبر بنتی ہے تجزیہ ہوتا ہے چند جذباتی جملے لکھے جاتے ہیں سوشل میڈیا پر چند ہیش ٹیگ چلتے ہیں اور پھر دنیا اپنی مصروفیات میں واپس چلی جاتی ہے۔

غزہ کے بچے مرتے ہیں عالمی منڈی کھلتی ہے غزہ میں گھر اجڑتے ہیں سفارتی ملاقاتیں جاری رہتی ہیں غزہ میں مائیں اپنے بچوں کو دفن کرتی ہیں طاقتور دنیا اپنے مفادات کا حساب لگاتی ہے یہ کیسی دنیا ہے؟ یہ کیسی ترقی ہے؟ یہ کیسی تہذیب ہے؟ اور یہ کیسی انسانیت ہے جسے صرف وہی انسان دکھائی دیتا ہے جو اس کے سیاسی مفاد میں ہو؟

مغرب کا وہ آئینہ جو ٹوٹ گیا

مغرب نے دنیا کو بتایا کہ وہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ اس نے ہمیں جمہوریت سمجھائی۔ ننگی آزادی سمجھائی شہری حقوق سمجھائے۔ عورتوں کے حقوق سمجھائے۔ بچوں کے حقوق سمجھائے ہم نے سنا ہم نے مانا بھی اور ان سے قائل بھی ہوئے واقعی مغرب میں انسانی حقوق ہیں لیکن پھر غزہ آیا اور اچانک اس سارے فلسفے کا امتحان شروع ہوگیا وہی دنیا جو ایک واقعے پر انسانی حقوق کی قراردادیں لکھتی تھی یہاں خاموش ہوگئی۔

وہی زبان جو آزادی کے لیے ہزاروں الفاظ بولتی تھی دلیلیں دیتی تھیں یہاں محتاط ہوگئی بلکہ خاموش ہوگئیں وہی طاقتیں جو دنیا کے دوسرے خطوں میں جنگی جرائم........

© Daily Urdu