menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ghair Hazri Par Khudkushi

16 22
monday

چند دن پہلے لاہور کی ایک نجی یونیورسٹی میں اویس نامی طالب علم نے چھت سے کود کر خود کشی کرلی۔ اس طالب علم کے بارے میں خبر موصول ہوئی ہے کہ دوران تعلیمی سال اس کی حاضری طے کئے گئے معیار سے کم تھی جس کی بنا پر اسے امتحان دینے سے روک دیا گیا تھا۔ سننے میں یہی آیا ہے کہ اس طالب علم نے اپنے استاد سے بڑی منت سماجت کی کہ اسے امتحان دینے کی اجازت دی جائے ورنہ اس کا قیمتی سال ضائع ہو جائے گا اور پھر جب اویس کو بتایا گیا کہ وہ امتحان دینے کا اہل نہیں ہے تو دل برداشتہ ہو کر طالب علم نے یونیورسٹی کی تیسری منزل سے چھلانگ لگادی اور موقع پر ہی اس کی موت واقع ہوگئی۔

یہ ایک دلخراش واقعہ ہے جس نے ناصرف ہمارے تعلیمی نظام کو جھنجھوڑ ڈالا ہے بلکہ معاشرتی بے حسی کی بھی کھلی تصویر ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یہ تو ایک واقعہ جس میں ایک طالب علم نے اپنی جان دے کی ان کمرشل تعلیمی اداروں کے اندر ہونے والے ہراسگی کے معاملات کو اجاگر کیا ہے ورنہ ایسے واقعات ان تعلیمی اداروں میں معمول کی بات ہیں اور طلبا اساتذہ اور انسٹیٹیوٹ کی ہراسگی کی وجہ سے خاموش رہتے ہیں جبکہ بہت سارے طلبا ڈرگس کے نشے میں پھنس جاتے ہیں۔

چند دن پہلے مجھے لاہور کی بڑی پبلک سیکٹر یونیورسٹی میں بھی کچھ ایسے ہی معاملہ کو دیکھنے کا موقع ملا جس میں یونیورسٹی کے بی ایس پروگرام میں کئی طلباء کو اس بنا پر امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا کہ ان کی مختلف مضامین کے لیکچرز میں حاضری کم تھی اور ان طلبا کے بار بار درخواست کرنے کے باوجود ان کو امتحان میں بیٹھنے سے روک دیا گیا تھا اور بظاہر یہ ایک اچھا ڈسپلنری فیصلہ تھا جس کو کسی بھی ذی شعور شخص کو سپورٹ ہی کرنا چاہئیے۔

دوسری طرف جب اس ہی شعبہ کے عملہ سے رابطہ کیا گیا کہ اگر ان بچوں کی حاضری چھ ماہ کے سیمسٹر میں مکمل نہیں تھی تو کیا ان کے پاس ایسا کوئی سسٹم........

© Daily Urdu