Sitaron Se Aage Jahan Aur Bhi Hain
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
مجھے زمین بدر کر دیا گیا تھا اور میں ہجرت کرکے چاند پر چلا آیا۔ یہاں ویرانے میں، میں نے اپنا ایک چھوٹا سا گھر بسایا، زندگی آباد کی اور رفتہ رفتہ برسوں کا سفر کٹ گیا۔ ایک دن، میرے اندر کے مسلمان نے انگڑائی لی اور میرا دل تڑپ اٹھا کہ میں اپنے رب کے حضور سجدہ ریز ہو جاؤں۔ میں گھر سے باہر نکلا تو چاند کے سیاہ افق پر زمین کا ایک بہت بڑا، چمکتا ہوا نیلا گولا نظر آ رہا تھا۔ میرے ذہن میں فوراً تصور ابھرا کہ میرا کعبہ تو اسی نیلے گولے کے اندر موجود ہے، چنانچہ میں نے اسی نیلے سیارے کی طرف رخ کیا اور ہاتھ باندھ کر نماز شروع کر دی۔ برسوں میرا یہی معمول رہا۔ میں زمین نامی اس چمکتے ستارے کو دیکھتا اور سجدے میں گر جاتا۔ لیکن ایک دن، جب میں سلام پھیر کر اٹھا، تو میرے پوتے نے، جو اسی چاند کی مٹی پر پیدا ہوا تھا اور جس نے کبھی زمین کو نہیں دیکھا تھا، مجھے حیرت سے دیکھا اور کہنے لگا: "دادا ابا! تم تو ستارہ پرست ہو؟ تم تو خلا میں چمکنے والے اس نیلے ستارے کی پرستش کر رہے ہو!"
میرے پوتے کے اس معصومانہ مگر کاٹ دار جملے نے میرے پاؤں تلے سے زمین نکال دی۔ میں نے سوچا کہ تاریخ کا یہ کتنا بڑا تضاد ہے کہ میں تو اپنے رب کے کعبے کو سجدہ کر رہا ہوں، لیکن کائنات کے اس دوسرے رخ سے دیکھنے والی نئی نسل کے لیے میرا یہ عمل "ستارہ پرستی" (Star Worship) کی ہوبہو شکل اختیار کر چکا ہے۔
تھوڑی دیر کو یہاں پر رک کر آپ یہ تصور کریں کہ کہیں قدیم تاریخ اور علم الاساطیر میں بھی ستاروں کی پوجا کا آغاز ایسے تو نہیں ہوا؟ کیا پتا ماضیِ بعید میں متبادل زمینوں یا ستاروں سے ہجرت کرکے کچھ ایسی مخلوقات اس زمین پر آئی ہوں، جنہیں آج کی متبادل تاریخ میں "انونکّی"(Anunnaki) یا آسمان سے اترنے والے "فالن اینجلز" (Fallen Angels) کہا جاتا ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ جب وہ اپنے تباہ شدہ سیاروں کو چھوڑ کر یہاں زمین پر آباد ہوئے، تو ان کا دل اپنے آبائی ستاروں اور پرانے کائناتی قبلوں سے لگا رہا ہو اور وہ یادِ وطن میں انہی آسمانی افقوں کی طرف رخ کرکے مصلّے بچھاتے ہوں؟ وقت گزرنے کے ساتھ، ان کی آنے والی نسلوں نے اصل بندگی کو بھلا دیا اور مادی آنکھ سے دیکھتے ہوئے اپنے آباؤ اجداد کے ان قدیم قبلوں (ستاروں) ہی کو معبود سمجھ کر پوجنا شروع کر دیا۔
"بک آف اینوک" (Book of Enoch) میں جب رسولِ خدا حضرت ادریس علیہ الصلاۃ والسلام کے کائناتی سفر کا ذکر آتا ہے، تو وہ خلا کی بلندیوں میں ایک ایسے عظیم اور نورانی مکان کا مشاہدہ کرتے ہیں جس میں روحیں اور فرشتے مسلسل آ جا رہے ہوتے ہیں۔ یہ وہی "بیت المعمور" ہے جو کعبہ کے عین اوپر واقع ہے۔ چنانچہ، اگر انسان خلا کی لامتناہی وسعتوں میں بھی دوربین لے کر زمین نامی ستارے کو ڈھونڈتا رہا اور اسی کی طرف منہ کرنے پر اصرار کرتا رہا، تو وہ غیر شعوری طور پر اسی ستارہ پرستی کے تاریخی مغالطے کو جنم دے رہا ہوگا۔
جب تک ہم زمین کے اوپر ہیں، شریعت کا زمینی قانون ہم پر لاگو رہتا ہے۔ مثال کے طور پر زمین کے قطبین (North and South Poles) پر جہاں چھ ماہ کا دن اور چھ ماہ کی رات ہوتی ہے اور سورج کا نکلنا اور ڈھلنا عام دنیا سے بہت تبدیل ہے، وہاں فقہا نے حکم دیا کہ نمازوں کو مکہ مکرمہ یا قریبی متعدل علاقے کے اوقات کے مطابق پڑھ لیا جائے، کیونکہ ہم بہرحال اسی کرۂ زمین کا حصہ ہیں اور کعبہ کے جغرافیائی دائرے میں موجود ہیں۔ لیکن جب........
