Zahra
ناول ولی اللہ کی قسط دوم، عرفان کی محفل کے بعد ضرغام کے اندر ایک نئی بیداری سی پیدا ہوگئی تھی۔ وہ اب ہر نماز کے بعد قرآن کھولتا، ترجمہ پڑھتا اور سمجھنے کی کوشش کرتا۔ اس نے اپنی الجھنوں کو حل کرنے کا ایک ذریعہ پا لیا تھا: "فاسالوا اهل الذكر ان كنتم لا تعلمون" (النحل: 43)۔ اگر تم نہیں جانتے تو اہل ذکر سے پوچھ لو اور اب اس کے نزدیک "اہل ذکر" وہ تھے جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کی بنیاد پر جواب دیتے تھے، نہ کہ محض خاندانی روایات کے ترجمان۔
ایک دن اس نے سورہ یوسف پڑھی اور اس میں یوسفؑ کی آزمائشوں پر غور کیا۔ اسے لگا کہ ہر نبی کا راستہ بھی تو تنہا ہی تھا، خاندان اور قوم سے الگ۔ مگر وہ صبر کرتے رہے، یہاں تک کہ اللہ نے انہیں کامیابی اور عزت سے نوازا۔ اس نے اس آیت پر خاص طور سے توقف کیا: "انه من يتق ويصبر فان الله لا يضيع اجر المحسنين" (یوسف: 90)۔ بیشک جو شخص تقویٰ اختیار کرے اور صبر کرے تو یقیناً اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔ کیا یہ آیت اس کے لیے بھی کوئی پیغام تھی؟
مگر اس کے اپنے حالات کچھ اور تھے۔ اس کی شادی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ ملکہ خالہ نے لڑکی دیکھ لی تھی، زہرا، ایک معزز گھرانے کی لڑکی جس کے والد کا تعلق بھی اسی شہر کے ایک بڑے کاروباری اور مذہبی گھرانے سے تھا۔ رشتہ طے ہوگیا۔ تاریخ مقرر ہوگئی۔ ضرغام کے دل میں ایک عجیب کشمکش تھی۔ کیا وہ ایک ایسی زندگی میں قدم رکھ رہا ہے جس کی بنیاد ہی وہ عقیدہ ہے جس پر اب اسے شک ہونے لگا تھا؟
شادی سے پہلے ایک دن ضرغام کے والد نے اسے اپنے پاس بٹھا کر کہا، "بیٹا، اب تم بھی ذمہ دار ہو جاؤ گے۔ ہمارے خاندان میں دو چیزیں مقدس ہیں: ایک ہمارا دین، دوسرا ہمارا وقار۔ زہرا کا خاندان بھی ہمارے ہی عقیدے کا ہے۔ تمہیں یاد رکھنا ہے کہ ہم نے جو راستہ چنا ہے، وہ ہمارے بزرگوں کا راستہ ہے۔ اس پر چلنا ہمارا فرض ہے۔ ہمارے اباواجداد نے اسی راستے پر چل کر برکتیں سمیٹی ہیں"۔
ضرغام نے سر جھکا لیا۔ اس کے منہ سے کوئی جواب نہیں نکلا۔ اس کے ذہن میں رسول اللہ کا وہ فرمان گونجا جو عرفان نے اسے بتایا تھا: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" (مسند احمد، صحیح)۔ کسی مخلوق کی اطاعت جائز نہیں اگر وہ خالق کی نافرمانی پر مبنی ہو۔ مگر ابھی اس کے پاس اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ والد کے سامنے اس دلیل کو رکھ سکے۔ وہ جانتا تھا کہ اب کوئی بحث بے سود ہے۔
شادی ہوگئی۔ رنگین تقریب، بڑے بڑے شیخوں کی دعائیں، قوالی، نعت خوانی۔ ضرغام نے دیکھا کہ نعت خوانی کے دوران کئی لوگ وجد میں آ گئے، جھومنے لگے، چیخنے لگے۔ اس کے دل نے اسے ملامت کی۔ کیا یہی وہ خشوع و خضوع ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے؟"قد افلح المؤمنون * الذين هم في صلاتهم خاشعون" (المؤمنون: 1-2)۔ وہ مؤمن فلاح پا گئے جو اپنی نماز میں خشوع اختیار کرنے والے ہیں۔ یہاں تو ایک دوسری ہی کیفیت تھی۔
زہرا دلہن بن کر آئی۔ اس کا چہرہ نقاب سے ڈھکا ہوا تھا۔ ضرغام نے پہلی بار رسمی طور پر اسے دیکھا تو اس کے دل میں ایک عجیب سی گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ یہ لڑکی، جو اب اس کی زندگی کا حصہ بننے والی تھی، کیا یہ بھی اسی عقیدے کی پابند ہوگی جس سے وہ دور ہٹنا چاہ رہا تھا؟ کیا وہ بھی درگاہوں پر چادر چڑھانے، مردوں سے مدد مانگنے کو عین ایمان سمجھے گی؟
رات کو جب وہ دونوں اکیلے ہوئے تو ضرغام نے ہلکے سے پوچھا، "زہرا، تم قرآن پڑھتی ہو؟" زہرا نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔ "جی، پڑھتی ہوں۔ بچپن میں قاری صاحب سے ختم........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin