Ana Ki Taskeen Aur Almi Tabahi Ka Safar
انا کی تسکین اور عالمی تباہی کا سفر
عالمی سیاست جب اصولوں، ضابطوں اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے نکل کر ایک فردِ واحد کی انا، مزاجی کیفیت اور جذباتی ہیجان کی بھینٹ چڑھنے لگے، تو امنِ عالم کا تصور ایک خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ آج 8 جولائی 2026 کا دن عالمی سفارت کاری کی تاریخ میں ایک ایسے ہی اضطراب اور غیر متوقع بحران کے طور پر ثبت ہوگیا ہے، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اپنی غیر مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایران کے ساتھ ہوئے حالیہ سمجھوتوں کو کالعدم قرار دے دیا ہے۔ معاہدے کو توڑنے کا اعلان اور اس کے ساتھ ہی ایران کو "بے وقوف" قرار دینے کا بیان، سفارتی اخلاقیات اور بین الاقوامی آداب کی وہ بدترین مثال ہے جس نے دنیا کو ایک بار پھر حیرت اور تشویش کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ بیان کہ "ایران بے وقوف ہے اور ہم اس معاہدے کو ختم کرتے ہیں"، ان کی اس محدود سفارتی بصیرت کا عکاس ہے جس میں عالمی تعلقات کو ایک عام کاروباری........
