Basant, Dehshat Gardi Aur Riyasti Tarjeehat
پاکستان اس وقت ایک واضح داخلی سلامتی کے بحران سے گزر رہا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی محض سکیورٹی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ایک مسلسل جنگ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ آئے روز ریاستی اداروں کے اہلکار شہید ہو رہے ہیں، چیک پوسٹیں اور سرکاری و غیر سرکاری املاک و عام شہری نشانہ بن رہے ہیں، جسکی بدولت شہری خوف کی فضا میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ سب کسی سرحدی جھڑپ کا نتیجہ نہیں بلکہ ملک کے اندر جاری دشمن ممالک کی حمایت یافتہ دہشتگردی کی ایک جنگ ہے۔
ایسے حالات میں ریاست اور بالخصوص صوبائی حکومتوں کے طرزِ عمل کو محض انتظامی فیصلوں کی بجائے سیاسی بیانیے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں بسنت کے انعقاد کی تیاری ایک سادہ ثقافتی سرگرمی نہیں بلکہ ایک علامت بن کر سامنے آتی ہے۔ علامت اس سوال کی کہ کیا ریاست کے تمام حصے ایک ہی حقیقت میں جی رہے ہیں یا نہیں۔
بسنت کا مسئلہ اس کے مذہبی یا غیر مذہبی ہونے سے کہیں آگے جا چکا ہے۔ یہ تہوار ماضی میں جان لیوا ثابت ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے خود ریاست نے اسے ممنوع قرار دیا تھا۔ عدالتی فیصلے، سرکاری........
