menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Poonam, Sarhad Aur Aik Adhoora Safar

18 1
28.12.2025

یہ اسی کی دہائی کی شروعات تھی اور ضیاء الحق کا دور تھا۔ مسز کھنہ ہمیشہ شام چار بجے سودا سلف لینے آتی تھی۔ آج ان کے ہمراہ ان کی دو ہندو سہیلیاں بھی تھیں۔ تینوں محو گفتگو تھیں اور بار بار مدراس کا نام لے رہی تھیں۔ والد صاحب کیش کاؤنٹر پہ بیٹھے نہایت شوق سے ان کی باتیں سن رہے تھے۔ جب ایک سہیلی نے سرنگا پٹم کا نام لیا تو والد صاحب بول پڑے۔

کیا مدراس کا جارج ٹاؤن بازار اب بھی ہے یا ختم ہوگیا ہے؟

اسی طرح انھوں نے سرنگا پٹم بارے دو تین سوال پوچھ لئے۔

اب حیران ہونے کی باری ان خواتین کی تھی اور ادھر میں حیرت زدہ والد صاحب، مسز کھنہ اور دیگر دو خواتین کی جوش و خروش سے بھرپور گفتگو سن رہا تھا۔

قصہ یہ تھا والد صاحب تقسیم سے قبل تقریباً تین سال انڈیا کے ان دو شہروں میں مقیم رہے۔ تقسیم سے پہلے یہ عام بات تھی کہ روزگار کے سلسلے میں راولپنڈی، مری اور کشمیر سے لوگ دہلی، مدراس، کرناٹک، میسور اور سرنگا پٹم تک جاتے ہوتے تھے۔

مسز کھنہ انڈین ایمبیسی اسلام آباد کے ایک سینئر اہلکار کی اہلیہ تھی۔ اسلام آباد کے اس پاش سیکٹر ایف سکس ون کی کوٹھیوں میں مقیم انڈین ایمبیسی کا تقریباً تمام سٹاف ہماری دوکان سے ہی سودا سلف لیتا تھا۔ بلکہ ہر ٹرانسفر ہونے والی فیملی اگلی نو تعینات فیملی کو بھی جاتے جاتے ہماری دوکان کا تعارف کرا جاتی اور یوں یہ سلسلہ جاری رہتا۔

انڈین گاہکوں کی کثرت کی وجہ سے انٹیلیجنس اداروں کے اہلکار بھی گاہے بگاہے ہماری دوکان کا چکر لگاتے اور ان اہلکاروں کی غیر محسوس طریقے سے گفتگو بھی سننے کی کوشش کرتے۔ وہ مینوئل ٹیکنالوجی کا دور تھا، کوئی موبائل فون یا واٹس ایپ کی سہولت نہیں تھی۔ ان اہلکاروں میں آئی بی کے ایک چکوال کے انسپکٹر غلام رسول بھی تھے جو لمبا کوٹ پہن کے مونگ پھلی چگتے رہتے اور ان کا تکیہ کلام ہوتا تھا۔

"راجہ جی کیہہ نویں تازی اے"۔

کافی دیر گپیں ہانکنے کے بعد وہ اپنی بھاری بھرکم بغیر کالی نمبر پلیٹ والی سرکاری موٹر سائیکل پہ بیٹھ کے روانہ ہو جاتے اور شام کو دو صفحات کا روزنامچہ درج کرکے کاروائی ڈال دیتے۔

والد صاحب کے انڈیا میں قیام بارے انکشاف کے بعد کھنہ فیملی کا عقیدت و احترام ان کے لئے بہت بڑھ گیا۔ مسٹر اینڈ مسز کھنہ کے ساتھ اکثر والد صاحب تقسیم سے پہلے والے ہندوستان بارے باتیں کرتے۔ مسز کھنہ نے تاہم والد صاحب کو بتایا کہ اب ہم مستقلاً دلی شفٹ ہو گئے ہیں۔ انھوں نے والد صاحب کو اپنا دلی کا ایڈریس بھی دیا کہ اگر کبھی آنا ہوا تو ہمارے ہاں ضرور آئیے گا۔

سولہ سال کی عمر میں تلاش روزگار کے سلسلے میں ٹرین میں سفر کرکے والد صاحب اٹاری سے........

© Daily Urdu