Toba Ki Dehleez Par Khara Gunehgar
توبہ کی دہلیز پر کھڑا گناہگار
ہم کتنے نادان ہیں نا؟ صبح کی پہلی کرن سے لے کر رات کی آخری انگڑائی تک، زندگی کی بساط پر مہرے بدلتے رہتے ہیں، سجدوں کا سودا کرتے ہیں، خواہشوں کے بت تراشتے ہیں اور پھر ایک دن تھک ہار کر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھتے ہیں کہ ہماری زندگی اتنی بے رنگ اور دل اتنے بے سکون کیوں ہیں؟
ہم بھول جاتے ہیں کہ رنگ تو اس کے ہاتھ میں ہے جو تصویر بنانے سے پہلے مصور کے ذہن میں خیال کو جنم دیتا ہے۔ کبھی تنہائی میں بیٹھ کر اپنے دل کی دھڑکن پر ہاتھ رکھ کر سوچا ہے کہ یہ جو دھک دھک کا ایک تسلسل ہے، یہ کس کا حکم ہے؟
یہ کوئی مشین نہیں جس میں کوئی بیٹری لگی ہو۔ یہ اللہ کی شان ہے، یہ اس کا نظام ہے کہ جب تک وہ چاہتا ہے، یہ مٹی کا پُتلا سانسوں کی ڈوری سے بندھا اچھلتا کودتا پھرتا ہے اور جس دن وہ حکم دیتا ہے، لمحوں میں بڑے بڑے سورما اور بادشاہ بھی خاک کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔
ہم گناہوں کی دلدل میں گردن تک دھنسے ہوتے ہیں، اندھیری راتوں کے بند کمروں میں جب ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں کوئی نہیں دیکھ رہا، تب بھی........
