Tareekh Pe Tareekh Aur Phir Tareekh
تاریخ پہ تاریخ اور پھر تاریخ
پاکستان تحریک انصاف کی خیبرپختونخوا حکومت کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے 4 اکتوبر کو لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ چار اکتوبر کو لانگ مارچ پشاور سے شروع ہوگا اور 5 اکتوبر کو بانی تحریک انصاف عمران خان کی سالگرہ والے دن کو "یومِ فتح" کے طور پر منایا جائے گا"۔ یاد رہے اس سے قبل تحریک انصاف اور سہیل آفریدی نے 27 ستمبر سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کیا تھا اس کی تیاریاں بھی زورو شور سے ہوئیں اس لانگ مارچ روکنے کیلئے جذبہ "ایمانی" بھر پور کاروائیاں بھی لیکن پھر 25 ستمبر کو لانگ مارچ 4 اکتوبر تک کیلئے موخر کردیا گیا۔
اب سہیل آفریدی کہتے ہیں میں نے لانگ مارچ کیلئے ستائیس ستمبر کی تاریخ نہیں دی تھی ایک پریس کانفرنس میں پوچھے گئے سوال پر بولے "لاؤ دیکھاؤ" کب میں نے ستائیس ستمبر کو لانگ مارچ کی بات کی یا اعلان کیا۔ سہیل آفریدی "دیوتا" کے تربیت یافتہ ہیں یقیناً درست کہہ رہے ہوں گے لیکن سوال یہ ہے کہ اگر ستائیس ستمبر کو لانگ مارچ نہیں کرنا تھا تو ان کے دورہ پنجاب و سندھ کے مقاصد کیا تھے؟
درجنوں شائع اور نشر شدہ بیانات و خطابات میں ستائیس ستمبر کو جنگ آزادی کے لئے سنگ میل قرار دیا گیا رابطہ عوام مہم کے دوران سندھ میں تو بتایا جاتا رہا تھا کہ محمد بن قاسم ثانی نے زرداری رجیم کو عبرتناک شکست دے کر سندھیوں کو آزادی کی نعمت سے مالا مال کردیا ہے۔
بہر حال وہ ایک صوبے کے وزیراعلیٰ ہیں یقیناً وہ "سچ" ہی بول رہے ہوں گے واقعتاً انہوں نے ستائیس ستمبر سے لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان نہیں کیا ہوگا ہمیں اور آپ کو ان کی بات پر اعتبار کرنا چاہئے۔ دلچسپ بات البتہ یہ ہے کہ ستائیس ستمبر سے تین دن قبل ان کی جماعت کے مرکزی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا تھا کہ ہم ڈی چوک نہیں جارہے ہمارے کارکن ستائیس ستمبر کو پاکستان کے ہر چوک کو ڈی چوک بنادیں........
