Yousuf Imam Ki Kitab Naqoosh e Hayat e Rafta Par Tabsara
یوسف امام کی کتاب "نقوشِ حیات رفتہ" پر تبصرہ
"نقوش حیات رفتہ" یوسف امام کی یادداشتوں پر مشتمل ان کے سوانحی مضامین اور شاعری کا مجموعہ ہے۔ یوسف امام صاحب زمانہ ٔطالب علمی سے ہی فعال شخصیت تھے۔ ہم نصابی سرگرمیوں اور ترقی پسند مصنفین کی ادبی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتے تھے۔ کالج کے طلبہ یونین میں انتخاب جیت کر نائب صدر اور (صدر پرنسپل) کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اچھے مقرر بھی تھے انھوں نے دشواریوں سے بھری زندگی میں اپنی ذہانت اور محنت سے یونیورسٹی میں اول پوزیشن حاصل کی۔
فسادات نے انھیں رانچی سے ڈھاکہ اور ڈھاکہ سے کراچی اور کراچی سے دبئی پہنچا دیا جہاں انھوں نے زندگی کا طویل ترین عرصہ مشہور اخبار "خلیج ٹائمز" میں مختلف محکموں کی سربراہی کرتے ہوئے گزارا۔ اس سے قبل ڈھاکہ کے اردو روزنامے "پاسبان" کی انتظامیہ کے سربراہ بھی رہے۔ یوسف امام کی کتاب "نقوش حیات رفتہ" صرف چند ہستیوں کی تاریخ نہیں ہے بلکہ ایک عہد کی آئینہ دار ہے۔ اس کتاب کے ذریعے ہم بے شمار تاریخی شخصیات سے ملتے ہیں۔ یوسف امام صاحب ان چند خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جنھوں نے تاریخ ساز شخصیات کے ساتھ وقت گزارا اور ان شخصیات کے ساتھ گزرے ہوئے وقت کو قلم بند کر دیا۔
"نقوش حیات رفتہ" ایک سو بہتر صفحات پر مشتمل یوسف امام کی یادداشتوں کا مجموعہ ہے۔ جس میں ان کے بارہ مضامین اور ان کا منظوم کلام شامل ہے۔ اس کتاب کا سرورق ڈاکٹر خالد پراچہ نے بنایا ہے۔ سرورق پر کلکتہ کے مشہور "ہاوڑہ برج" کی تصویر ہے۔ اس کتاب کا پہلا مضمون "کلکتہ کی یادیں" کے عنوان سے ہے۔ "کلکتہ کی یادیں" میں وہ لکھتے ہیں "پر شکوہ ہاوڑہ برج آرکیٹکچر اور عمارت سازی کا ایسا اعلیٰ نمونہ ہے جو شہر میں ریلوے اسٹیشن سے نکل کر داخل ہونے والوں کو مرعوب اور حیرت زدہ کر دیتا ہے۔ لاکھوں ٹن کا وزن اٹھائے، کسی درمیانی سہارے کے بغیر، دریائے ہگلی پر کیسے کھڑا ہے۔ کئی سال پہلے امریکہ کے شہرہ آفاق "گولڈن گیٹ برج" کا نظارہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا تھا کہ دلکش سیر گاہوں اور قابل دید عمارتوں کی عالمگیر شہرت کا انحصار اس ملک کی عظمت اور........
