menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Sarken, Saltanaten Aur Tareekh Ka Faisla

19 0
05.01.2026

یہ جملہ کہ "سڑکیں بنانے سے ترقی نہیں ہوتی" بظاہر ایک دانشورانہ فقرہ لگتا ہے، مگر درحقیقت یہ تاریخ کی طویل اور کڑی عدالت میں بار بار مجرم ٹھہر چکا ہے۔ سڑک محض اینٹ، پتھر اور اسفالٹ کا نام نہیں ہوتی، سڑک ریاست کی رگِ جاں ہوتی ہے، تہذیب کی شہ رگ، معیشت کا خاموش مگر مضبوط ستون۔ انسان نے جب پہلی بار قبیلے سے ریاست کی طرف سفر کیا تو سب سے پہلے راستہ بنایا، کیونکہ بغیر راستے کے نہ خیال آگے بڑھتا ہے، نہ تجارت، نہ فوج، نہ علم، نہ تہذیب۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ میں جن سلطنتوں نے دور تک اثر چھوڑا، انہوں نے سب سے پہلے راستوں کو جوڑا، بکھری آبادیوں کو ایک لڑی میں پرویا اور فاصلے کم کیے۔ فارس کا بادشاہ سائرس اعظم ہو یا برصغیر کا شیر شاہ سوری، یا جدید پاکستان کا موٹروے منصوبہ، یہ سب محض تعمیرات نہیں بلکہ ایک وژن، ایک ریاستی شعور اور مستقبل کی طرف بڑھتا ہوا قدم تھے۔

سائرس اعظم نے جب رائل روڈ بنائی تو وہ محض ایک سڑک نہیں تھی، وہ پوری سلطنت کی زبان تھی۔ یہ بین البراعظمی شاہراہ ایشیا کے مختلف حصوں کو جوڑتی تھی، خبر، حکم، تجارت اور فوجی نقل و حرکت کو ممکن بناتی تھی۔ یہی وہ رگ تھی جس پر فارس کی سلطنت کی سانس چلتی تھی۔ پھر 330 قبل مسیح میں سکندر اعظم آیا، اس نے شہر جلا دیے، محلات مسمار کر دیے، مگر ایک چیز کو ہاتھ نہ لگایا، سائرس کا مقبرہ۔ یہ محض فاتح کی سخاوت نہیں تھی، یہ تاریخ کے........

© Daily Urdu