Imamat Ka Mayar
علامہ محمد اقبالؒ کی شاعری کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ وہ الفاظ کو محض جذبات کی ترجمانی کے لیے استعمال نہیں کرتے بلکہ ان کے ذریعے انسان کے باطن میں ایک انقلاب برپا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک شاعری کا مقصد کانوں کو بھلا لگنا نہیں بلکہ دل کو بے چین کرنا اور عقل کو بیدار کرنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی بہت سی نظمیں اور اشعار بظاہر مختصر ہوتے ہیں مگر اپنے اندر ایک پوری تہذیب، ایک مکمل فلسفۂ حیات اور ایک ہمہ گیر فکری نظام سموئے ہوئے ہوتے ہیں۔ "امامت" کے عنوان سے کہے گئے چند اشعار بھی اسی قبیل سے تعلق رکھتے ہیں۔
یہ چند مصرعے دراصل قیادت، رہنمائی، اقتدار، مذہب، سیاست اور انسان کی روحانی تعمیر کے متعلق اقبالؒ کے پورے تصور کا نچوڑ ہیں۔ ان اشعار کو اگر صرف مذہبی امامت کے محدود مفہوم میں پڑھا جائے تو ان کے معانی سمٹ جاتے ہیں، لیکن اگر انہیں قوموں کی فکری قیادت، اخلاقی رہنمائی اور تہذیبی تعمیر کے تناظر میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اقبالؒ ایک ایسے رہنما کی تلاش میں ہیں جو انسان کو اس کی موجودہ حالت پر مطمئن نہ رہنے دے بلکہ اسے اس مقام تک پہنچائے جہاں اس کی نگاہ زمین سے اٹھ کر آسمانوں سے ہم کلام ہونے لگے۔ آج کے زمانے میں جبکہ قیادت کا معیار مقبولیت، اشتہار، دولت، ووٹ، طاقت اور ذرائع ابلاغ کی چکاچوند بن چکا ہے، اقبالؒ کے یہ اشعار ایک کسوٹی بن کر سامنے آتے ہیں اور ہم سے سوال کرتے ہیں کہ آخر امام کون ہے؟ رہنما کسے کہا جائے؟ اور کس کے پیچھے چلنا انسان کو بلندی کی طرف لے جاتا ہے؟
پہلا شعر ہی اس پوری بحث کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اقبالؒ کہتے ہیں:
تو نے پوچھی ہے امامت کی حقیقت مجھ سے حق تجھے میری طرح صاحبِ اسرار کرے
اس دعا میں بھی ایک سبق پوشیدہ ہے۔ اقبالؒ جواب دینے سے پہلے دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سوال کرنے والے کو بھی حقیقت شناس بنا دے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ امامت کا مفہوم صرف کتابیں پڑھ لینے یا چند تعریفیں یاد کر لینے سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے لیے دل کی آنکھ کا کھلنا ضروری ہے۔ جب تک انسان اسرارِ حیات سے آشنا نہیں ہوتا، وہ رہنما اور رہزن میں فرق نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر دور میں لوگوں نے ظاہری شان و شوکت رکھنے والوں کو اپنا قائد سمجھ لیا، حالانکہ حقیقی رہنما وہ نہیں ہوتا جو ہجوم کو اپنی طرف کھینچ لے بلکہ وہ ہوتا ہے جو انسان کو اس کے رب کی طرف متوجہ کر دے۔
اقبالؒ........
