menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Going, Going, Gone

33 0
24.06.2026

آج صبح ڈاؤننگ سٹریٹ کے باہر کھڑے صحافیوں کے چہرے دیکھ کر مجھے وہ منظر یاد آ گیا جو پچھلے گیارہ سال میں اِس قوم نے پانچ بار دیکھا ہے۔ ایک اور وزیراعظم، اپنے سیاسی جنازے کے ساتھ، اُس کالے دروازے سے نکلنے کو تیار ہے۔

کیئر اسٹارمر آج اپنی رخصتی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ ابھی تک رسمی الفاظ ادا نہیں ہوئے، مگر آبزرور، ٹائم، نیوز ویک، سب ایک ہی خبر دے رہے ہیں اور حد یہ ہوئی کہ اعلان سب سے پہلے کسی برطانوی نے نہیں، خود ٹرمپ نے کیا، جس نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ اسٹارمر مستعفی ہو جائے گا۔ ایک امریکی صدر کا برطانوی وزیراعظم کی رخصتی کا اعلان کرنا، اِس سے بڑی سفارتی توہین کا تصور مشکل ہے۔ مگر یہی آج کے برطانیہ کا حال ہے۔

پچھلے کچھ تجزیوں، میں، میں مسلسل کہتا رہا کہ اسٹارمر کا جانا اب وقت کی بات ہے۔ جولائی 2024 میں جب وہ ایک سو بہتر نشستوں کی تاریخی اکثریت سے جیتا تھا، تب بھی میں نے ایک محفل میں کہا تھا کہ یہ اکثریت دھوکا ہے۔ یہ محبت کا ووٹ نہیں، نفرت کا ووٹ ہے، ٹوریوں سے نفرت کا اور جو حکومت محبت کے بجائے نفرت پر کھڑی ہو، وہ زیادہ دیر نہیں چلتی۔

یہ صرف اندازہ نہیں تھا۔ اِسی فروری میں مجھے پارلیمنٹ ہاؤس میں ایک نشست کا موقع ملا۔ وہاں جو کچھ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ کسی پولنگ سے زیادہ بلند آواز میں بول رہا تھا۔ ایوان کی راہداریوں میں اسٹارمر کی قیادت ایسے پگھل رہی تھی جیسے دھوپ میں موم۔ لیبر کے اپنے ارکان ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں بات کر رہے تھے۔ کسی کے چہرے پر وہ یقین نہیں تھا جو ایک جیتی ہوئی جماعت کے ارکان کے چہرے پر ہوتا ہے۔ ایک سینیئر رکن نے مجھ سے کہا تھا، یہ آدمی مقدمہ تو جیت سکتا ہے، دل نہیں جیت سکتا۔ وہ ایک بہترین وکیل ہے، مگر وکیل اور لیڈر میں فرق ہوتا ہے۔ اُس دن میں سمجھ گیا تھا کہ گنتی شروع ہو چکی ہے۔

اب ذرا سٹارمر کی کہانی پر نظر ڈالیے، کیونکہ یہ سمجھے بغیر اُس کا زوال سمجھ نہیں آتا۔

کیئر اسٹارمر کوئی پیدائشی اشرافیہ نہیں۔ اُس کا باپ راڈنی ایک فیکٹری میں اوزار ساز تھا، ٹول میکر۔ ماں جوزیفین نرس تھی، جو ساری زندگی ایک نایاب اور تکلیف دہ بیماری،........

© Daily Urdu