menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kunji Ko Kamar Band Mein Zinhar Na Bandho

24 0
saturday

کُنجی کو کمر بند میں زِنہار نہ باندھو

کوئی ہفتہ بھر پہلے برادرم سہیل احمد صدیقی کی "بزمِ زبان فہمی" میں زینہار فہمی، کی کوشش کی گئی۔ سوچا کہ اس کوشش میں اِس کالم کے قارئین کو بھی شریک کر لیا جائے۔ وہاں بات چلی تھی غالبؔ کی ایک نظم کے اُس شعر سے جس میں غالبؔ نے "ہیں گے" استعمال کیا ہے:

بیچ میں ان کے نہ آنا زینہار یہ نہیں ہیں گے کسے کے یارِ غار

"ہیں گے" اور "ہے گا" کا استعمال ہندوستان میں مغربی یوپی اور دہلی کے اطراف میں عام تھا۔ شاید اسی وجہ سے غالبؔ نے بھی استعمال کر لیا۔ علی گڑھ، امروہہ، بلند شہر اور مظفر نگر وغیرہ میں روز مرہ بول چال کا حصہ تھا۔ عوام کی بول چال ہی میں نہیں قدما کی شاعری میں بھی اس کی مثالیں مل جاتی ہیں، مثلاً بلبل کو گُل پر پھولتے دیکھ کرمیر تقی میرؔ نے محبوب کی کچھ ایسی مدح کی کہ محبوب بھی پھول کر کُپّا ہوگیا ہوگا:

تُو گُلِ باغ پر نہ بلبل پھول وہ بھی ہے گا گلاب کا سا پھول

اسی طرح میرؔ صاحب نے اس دنیائے فانی میں حیات، کے قیدیوں کو موت، کے منہ میں جاتے دیکھ کر قدرے حیرت کا اظہار کیا:

قیدِ حیات، قید کوئی سخت ہے کہ روز مر رہتے ہیں گے اِس کے گرفتار ایک دو

شیخ ظہور الدین حاتمؔ نے تو سخاوت کرکے پوری غزل کی ردیف ہی ہے گا، باندھ دی۔ آپ کی خدمت میں غزل کا مطلع عرض ہے:

دل مرا آج یار میں ہے گا کس خزاں میں بہار میں ہے گا

پھر میر اَمّن دہلوی........

© Daily Urdu