Bhago, Bhoot Hai
خدا عرفان صدیقی مرحوم پر رحمت کرے، ان کے برادر خورد محترم شاہد صدیقی کا کالم کسی نے بھیجا جس میں انہوں نے بتایا کہ کس طرح مرحوم کو پنڈی اسلام آباد کے راستے میں آتے جاتے دو بار ایک چڑیل نظر آئی جس کا قد لمبا تھا اور اس نے سرخ لپ سٹک لگائی ہوئی تھی اور وہ بہت ڈرائونی تھی۔
خدا جانے کیا ماجرا تھا، وہ سچ مچ کوئی شیطانی مخلوق تھی یا لوگوں کو ڈرا کر لوٹنے والے گروہ کی واردات تھی۔ خیر، اس واقعے سے بے ساختہ ایک بہت پرانا واقعہ یاد آ گیا لیکن یہ واقعہ ہمارے ہاں کا نہیں ہے، بھارتی صوبے یو پی کا ہے اور پاکستان بننے سے پہلے کا ہے۔ ایسے واقعات تو ان گنت پڑھ اور سن رکھے ہیں لیکن پتہ نہیں کیوں، کالم پڑھ کر یہی واقعہ یاد آیا۔
قصہ ایک سرکاری افسر کا ہے جو کسی گاؤں سے واپس شہر آ رہے تھے۔ افسر ہوتے ہوئے بھی پیدل تھے، واپسی کیلئے انہوں نے شارٹ کٹ اختیار کیا اور بیچ راستے کے اچانک انہیں یاد آیا کہ یہ تو وہ راستہ ہے جس پر ایک چڑیل کا راج ہے جسے دیکھ کر بہت سے لوگ بے ہوش اور بیمار ہو چکے ہیں اور اب اس راستے پر کوئی نہیں آتا جاتا سوائے اس کے جسے اشد ضروری ہو یا وہ جو انجان ہو۔ خیر افسر صاحب کے کندھے پر بندوق تھی، نڈر بھی تھے چنانچہ زیادہ فکر مند نہ ہوئے اور چلتے رہے۔ کچھ ہی آگے جا کر ان کا اس چڑیل سے سامنا ہوگیا۔ و ہ کچھ ہی فاصلے پر کھڑی تھی۔ افسر نے دیکھا کہ وہ بہت خوبصورت تھی۔ لباس بھی بہت دلفریب پہن رکھا تھا۔ ہونٹوں........
