menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Zara Band e Qaba Dekh

24 0
12.06.2026

اوماہا نبراسکا میں کرئیٹن یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کا پُرانا نام سینٹ جوزف میڈیکل ہاسپٹل تھا۔ ایک بہت بڑا اور معتبر نام جہاں سب مکمل ٹیم کی صورت میں کام کرتے۔ ہاتھ سے ہاتھ ملا کر اور کاندھے سے کاندھا جوڑ کر۔ مریضوں کی کوشش ہوتی کہ نئے طلباء اور ریزیڈنٹ ان سے سیکھیں اور بڑی خندہ پیشانی سے نہ صرف اجازت دیتے بلکہ یہ پیغام دیتے کہ آنے والا وقت ہم سب کے لئیے اہم ہے

ایک دن غالباََ میں انٹرنل میڈیسن یا نیورولوجی میں کام کر رہا تھا کہ stroke یعنی فالج کا ایک مریض آیا۔ مریض ہماری دنیا کے حصے سے تھے اور بلڈ پریشر کے مریض تھے۔ ایک معروف سرجری کی اسپیشلٹی کے ڈاکٹر تھے اور جتنا یاد ہے اُن کا جواں سال صاحبزادہ بھی ڈاکٹر تھا۔ ہائی بلڈ پریشر نے Stroke کی شکل بدلی اور کم و بیش ایک طرف مکمل بے حس و حرکت ہوگئی۔ بعض اوقات زیادہ بیمار مریضوں کو ایسے کمرے دئیے جاتے ہیں جو نرسنگ اسٹیشن کے بالکل سامنے ہوں تاکہ کسی فوری ضرورت میں چند لمحوں کی بھی تاخیر نہ ہو۔ جس وقت میں دروازے پر پہنچا تو ایک ہاتھ سے لکھا ہوا پلے کارڈ منہ چڑا رہا تھا "No Medical Students"۔ میں تو ڈیوٹی ریزیڈنٹ تھا اور مجھے معائنہ تو کرنا ہی تھا۔ جب میں اندر داخل ہوا تو کنبہ کا کنبہ موجود تھا اور خوش گپیاں چل رہی تھیں لیکن ان کا اصرار تھا کہ کوئی میڈیکل اسٹوڈنٹ جو اُن کا وقت "ضائع" کرتا ہے، وہ موجود نہیں ہوگا۔ یہ اپنے دامن سے آگے نہ دیکھنے کی ایک ایک واضح اور بدنما مثال تھی۔

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

مجھے زندگی کا ایک بہت بڑا سبق میری اہلیہ نے سکھایا۔ ہم........

© Daily Urdu (Blogs)