menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Gar Aankh Chalak Pare To, Maaf Karna

48 0
23.08.2026

گر آنکھ چھلک پڑے تو، معاف کرنا

کراچی کے مضافات میں ملیر ایک متوسط طبقے کا علاقہ تھا۔ ہمارا گھر ملیر، ماڈل کالونی کے عین بیچوں بیچ تھا۔ گھر سے ذرا آگے بائیں جانب نکلتے تو سامنے ایئرپورٹ صاف دکھائی دیتا۔ جہاز اڑتے بھی نظر آتے، اترتے بھی۔ رن ون کے اطراف صرف کچی زمین تھی۔ یا جھاڑیاں۔

دائیں طرف سعودآباد شروع ہو جاتا تھا۔ پھر آگے میمن گوٹھ آتا۔ اس کے باغ پورے ملیر میں اپنی ٹھنڈی ہوا کے سنگ امرود اور آم کی مہک بھی دور دور تک پہنچاتے تھے۔ انہی باغوں کے آگے ملیر ندی بہتی تھی۔ بارشوں میں وہ پوری آب و تاب سے رواں رہتی۔

ہمارے علاقے میں بارش کا پانی کبھی ٹھہرتا نہ تھا۔ محلے کے تمام بچے بہتے پانی میں کاغذ کی کشتیوں کی ریس لگاتے تھے۔ بارش تھمتے ہی کچی زمین اسے پی جاتی، یا وہ سیدھا ملیر ندی میں جا گرتا۔ بارش کے بعد ہر چیز دھل جاتی تھی۔

بارشوں میں ہم سب بچے پیدل اپنے والدین کی سنگت میں ایئرپورٹ کے ساتھ والے جنگل کی طرف نکل جاتے۔ جہاں جھاڑیاں اور جنگلی پودے تھے۔ بارش کے موسم میں سرخ سرخ بیر بہوٹیاں نہ جانے کہاں سے نمودار ہو جاتی تھیں، ابو چن چن کر وہ مخملی بیر بہوٹیاں میری ہتھیلی پر سجا دیتے۔

انہی دنوں زمین سے ننھی ننھی کھمبیاں بھی پھوٹ پڑتی تھیں۔ ہم دیر تک انہیں حیرت سے دیکھتے رہتے۔ ابو نے پہلی بار مجھے بتایا تھا کہ انھیں مشروم کہتے ہیں۔

ملیر صرف ایک بستی نہیں تھی۔ ایک آباد دنیا تھی۔ ہر طرح کے لوگ وہاں رہتے تھے۔ زیادہ تر وہ جو ہجرت کرکے ہندوستان سے آئے تھے۔ اپنے دکھ بھی ساتھ لائے تھے، اپنی امیدیں بھی۔

میرے دادا دادی بھی اجمیر اور جے پور سے آ کر یہیں بس گئے تھے۔ ان کے دو ہی بیٹے تھے۔ ہمارے تایا جان اور ابو۔

ملیر میں زیادہ تر گھر ایک منزلہ تھے۔ دو منزلہ مکان بہت کم تھے۔ ہمارا گھر دو منزلہ تھا۔ اوپر تایا کے لیے دو کمرے بنے تھے۔ نیچے ہم رہتے تھے۔ ایک کمرہ دادا دادی کے لیے مخصوص تھا۔

باقی سارا صحن کچا تھا۔ بارش کے بعد اس سے اٹھنے والی سوندھی خوشبو آج بھی یاد ہے۔

صحن کی چاروں دیواروں کے ساتھ کیاریاں بنی ہوئی تھیں۔ گھر میں کئی گھنے درخت تھے۔ نیم کا درخت آج بھی آنکھوں کے سامنے ہے۔ آم کا درخت بھی، جس پر ہر سال کیریاں لگتی تھیں۔ ایک املی کا درخت بھی تھا، جسے دادی نے بڑے شوق سے لگایا تھا۔

دھوپ بھی تھی، چھاؤں بھی۔ اسی چھاؤں میں دادی کی چارپائی ہر وقت بچھی رہتی۔ جہاں وہ دن بھر دھوپ سینکا کرتی تھیں۔ صبح سویرے وہ اس پر گدا بچھاتیں، پھر صاف چادر ڈال دیتیں۔ وہی ان کی دنیا تھی۔

درختوں سے چھینکے بھی لٹکے رہتے تھے۔ ریفریجریٹر تو شاید اکا دکا گھر میں ہی تھا۔ بچا ہوا کھانا، دودھ یا ڈبل روٹی دادی اسی چھینکے میں رکھ کر درخت کی ٹہنی سے لٹکا دیتیں۔ وہی ہمارا فریج تھا۔

میرے دادا پانچ وقت کے نمازی تھے۔ تہجد بھی پڑھتے تھے۔ میرے تایا بھی انہی کے رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔

دادی کا معاملہ کچھ اور تھا۔ مذہب سے ان کا تعلق علم کا تھا، وہ اندر سے بہت روشن خیال تھیں۔

میرے ابو بے حد وجیہہ تھے۔ ان کا رنگ، ان کے نقوش، ان کی شخصیت دادی سے مشابہ تھی۔ دلکش ایسے کہ کسی فلم کے ہیرو معلوم ہوتے تھے۔

میں ان کی پہلی اولاد تھی۔ پہلی بیٹی۔ شاید اسی لیے ان کی محبت بھی کچھ الگ تھی۔ ماں کی محبت جیسی نہیں۔ باپ کی محبت ہمیشہ ایک اور طرح کی ہوتی ہے۔ خاموش، مگر ساری زندگی ساتھ چلنے والی۔

پہلے پانچ سال تو میں نے خوب مزے کیے۔

جب تک اکلوتی رہی امی سے جڑی........

© Daily Urdu (Blogs)