Imtihan Ya Intikhab?
پاکستان کا تعلیمی نظام لاکھوں نوجوانوں کو ہر سال ڈگریوں سے نوازتا ہے۔ بچے اسکولوں سے نکل کر کالج، پھر یونیورسٹی اور بعض تو ایم فل و پی ایچ ڈی جیسے بلند تعلیمی سنگِ میل عبور کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ کرنے کے بعد جب وہ نوکری کے لیے میدان میں اترتے ہیں تو ان سے کہا جاتا ہے: "اب تمہیں مقابلے کا امتحان پاس کرنا ہوگا"۔ یہ امتحان ان کی تمام تر تعلیمی قابلیت، مہارتوں اور تجربے کو ایک طرف رکھ کر انہیں از سر نو ایک ایسے میدان میں لا کھڑا کرتا ہے جہاں صرف مخصوص نوعیت کے عمومی علم، مضمون نویسی اور چند معلوماتی سوالات پر ان کا مستقبل ٹکا ہوتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ اگر تعلیم ہی معیار نہیں، تو پھر اتنے تعلیمی ادارے، اتنے بورڈ، یونیورسٹیاں اور تحقیق کا عمل کیوں؟ اور اگر واقعی تعلیم معیار ہے تو پھر ریاست کو اس پر اعتبار کیوں نہیں؟ مقابلے کے امتحان کو تعلیمی نظام کے متوازی کیوں چلایا جا رہا ہے اور کیوں ان دونوں کے درمیان ایک خلیج قائم کر دی گئی ہے؟ تعلیم کا مقصد اگر ترقی، مہارت اور فکری بصیرت دینا ہے، تو پھر CSS یا PPSC جیسے امتحانات کیوں تعلیم یافتہ نوجوانوں کو دوبارہ "میٹرک طرز" کے عمومی سوالات میں الجھا کر ان کی قابلیت کو نظر انداز کر دیتے ہیں؟
حقیقت یہ ہے........





















Toi Staff
Sabine Sterk
Gideon Levy
Mark Travers Ph.d
Waka Ikeda
Tarik Cyril Amar
Grant Arthur Gochin