menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Dingu

14 6
04.01.2026

وہ اپنی تیس چالیس بکریاں لے کر چل رہا ہوتا، ہاتھ میں چھڑی جو اس نے گردن کے پیچھے کندھوں پہ رکھی ہوتی اور دونوں ہاتھ اس کے اوپر اٹکائے ہوتے۔ سر پہ کبھی پٹکا ہوتا کبھی نہیں ہوتا۔ میں اسے ہمیشہ اسی حالت میں دیکھتا تھا۔ آتے جاتے کبھی سلام کر لیتا۔ اس کے علاوہ وہ کبھی کبھی کبڈی کے گراؤنڈ میں نظر آتا۔ سخت جان اور پھرتیلا تھا اسلیے کبڈی اچھی کھیلتا تھا۔ میں نے اسے ان دو حالتوں کے علاوہ آج تک نہیں دیکھا۔ ہم ایک ہی گاؤں میں رہتے تھے۔ اس کا ایک جبڑا ٹیڑھا تھا جیسے منہ کے اندر کی طرف ہوا ہو۔ اسلیے لوگ اسے ڈِنگُو کہہ کر پکارتے تھے۔

ڈنگو اپنی بکریوں کے ساتھ بہت خوش رہتا تھا، اسے ہمیشہ ہنستے مسکراتے دیکھا۔ کبھی چہرے پہ شکایت کے تاثرات نہیں دیکھے۔ میں اکثر سوچتا ہوں کیا اسے بھی اپنی زندگی سے شکایتیں ہونگی؟ کیا وہ کسی کے سامنے گلہ کرتا ہوگا؟ یا اس کے خواب کیسے ہوں گے؟ یا وہ اپنی چالیس بکریوں کی کائنات میں خوش تھا؟ مجھے یقین ہے کہ وہ اپنی اسی کائنات میں خوش ہوگا اور اگر وہ ایسے خوش ہے تو کیا اسکی زندگی آسان نہیں؟ میں اور میرے دوست گاؤں چھوڑ........

© Daily Urdu (Blogs)