menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Time Machine

14 1
26.12.2025

کیا خوبصورت تصور ہے۔۔ اس خیال میں گہری نرمی، ناستلجیا اور انسانی بے بسی ہے۔ میری ایک پرانی خواہش تھی کہ میں اُس وقت تک زندہ رہوں جب تک انسان ٹائم مشین ایجاد نہ کر لے۔ بچپن سے ٹائم مشین میری محبوبہ رہی ہے۔ کبھی کسی کہانی میں پڑھتا، کبھی کسی فلم میں دیکھتا، تو دل چاہتا کہ کاش یہ سچ ہو۔ وقت کے اس پہیے پر سوار ہو کر میں ماضی میں جاؤں، اُن دنوں میں، جب زندگی آہستہ بہتی تھی اور انسان انسان لگتا تھا۔

چشمِ تصور میں، میں اکثر خود کو ٹائم مشین میں بیٹھا دیکھتا ہوں۔ شائید ایک روز وہ لمحہ آ جائے میں بٹن دباؤں، روشنیوں کا ایک دائرہ گھومے اور لمحہ بھر میں میرے اردگرد کی دنیا بدل جائے اور میں 1970 کے پاکستان میں کھڑا ہوں۔

میں مستقبل کی بجائے ماضی میں جانا چاہوں گا۔

ہوا میں ایک عجیب خنکی ہوگی، شور کم ہوگا، لوگوں کے چہروں پر ایک سادہ سی خوشی۔ نہ موبائل فون کی گھنٹی، نہ کاروں کے ہارن، نہ اشتہارات کا ہجوم۔ سڑک پر اکا دکا کرونا یا مورِس کی گاڑیاں چل رہی ہوں گی، جن کے ڈرائیور ہاتھ سے سلام کرتے ہوں گے۔ میں حیران ہوں گا۔۔ یہ بھی کبھی ایک پاکستان تھا؟ ایسا پاکستان جو اب ایک بھولی بسری خواب کی مانند ہے۔

ایک سلور کلر کی جی ٹی ایس بس میں، میں مری سے پنڈی کا سفر کروں گا۔ بس کے دروازے میں داخل ہوتے ہوئے ہی اندر لگی سیٹوں اور گول بتیوں کو دیکھ کے مبہوت ہو جاؤں گا۔ بس چلے گی اور میرے لئے ایک ہیجان خیز اور پر لطف سفر کا آغاز ہوگا۔

پتلی، تارکول بچھی موڑ در موڑ سڑک مری کی خاموش وادیوں سے پنڈی کی ہنگام خیزیوں کی طرف جاتی ہوگی۔ گھنٹوں سفر کے بعد جب مل پور کراس ہو رہا ہوگا، تو بس کی کھڑ کھڑ تھم جائے گی، انجن کا شور کم ہوگا، دور دائیں طرف ہوٹل شہر زاد کی سفید بلڈنگ نظر آئے گی۔ ڈھوکری سے آبپارہ ایک نئی دنیا نظر آئے گی۔ عجوبہ ٹریفک سگنل نظر آئیں گے۔ آبپارہ سے آگے ڈبل ڈیکر لال رنگ کی بس چڑھتی نظر آئے گی۔ میں دوڑ کے اوپر والی منزل پہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھوں گا۔ کہیں........

© Daily Urdu (Blogs)