Main Aur Aap Khule Manhole Mein
ہم سب اس دن بھاٹی گیٹ کے قریب تھے۔ کوئی وہاں موجود تھا، کوئی خبر کی صورت میں اور کوئی محض ایک عدد بن کر۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کھلے مین ہول میں صرف ایک دس ماہ کی ردا فاطمہ یا اس کی ماں سعدیہ نہیں گریں۔ ہم سب گرے ہیں۔ یہ کوئی حادثہ نہیں تھا۔ یہ برسوں کی غفلت، جھوٹ، نمائشی بیانات اور مردہ نظام کا منطقی انجام تھا۔
بھاٹی گیٹ، جو کبھی لاہور کی تہذیبی پہچان ہوا کرتا تھا، آج انتظامی لاپرواہی کی ایک کھلی فائل ہے۔ ایک ایسا مین ہول جو دنوں، ہفتوں، بلکہ مہینوں سے کھلا تھا۔ نہ کسی کو دکھائی دیا، نہ کسی کو یاد رہا اور نہ کسی کی ترجیح بنا۔ یہی تو اصل مسئلہ ہے۔ ہماری ترجیحات۔
حادثے کے فوراً بعد بیانات کی بارش شروع ہوگئی۔
کسی نے کہا: "تحقیقات ہوں گی"۔
کسی نے کہا: "ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی"۔
اور کسی نے ہمیشہ کی طرح کہا: "یہ........
