menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Aalmi Urdu Conference: Aman, Elamiya Aur Khamoshi Ki Siasat

6 8
30.12.2025

اٹھارویں عالمی اردو کانفرنس کا اختتام اس کانفرنس میں شریک "نامور ادیبوں" نے ایک اعلامیے کے ساتھ کیا۔ اس بارے سب سے پہلے تو ہر کوئی یہ سوچے گا کہ اعلامیے کا متن کیا کہتا ہے؟ لیکن میرے نزدیک اس سے زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ "یہ کیا نہیں کہتا"۔

میرے نزدیک اس متن کی معنویت اس متن میں کیا "موجود" ہے سے کہیں زیادہ اس میں "کیا غائب ہے" سے زیادہ بنتی ہے۔ یہی وہ مقام اور سوال ہے جو اس اعلامیے کے متن کی بنیادیں ہلا دیتا ہے۔

اعلامیہ امن سے شروع ہوتا ہے۔ امن کو ایک آفاقی، شفاف اور غیر متنازع تصور کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن امن کوئی مکمل، حاضر اور بند معنی نہیں رکھتا، امن کے معنی ہمیشہ زیر التواء (différé) رہتا ہے، ایک ایسا وعدہ جو کبھی پورا نہیں ہوتا بلکہ مسلسل مؤخر ہوتا رہتا ہے۔

یہاں امن کو ایک زمان و مکان سے ماورا، ابعاد سے بے نیاز "شئے" کے ساتھ برتا گیا گویا امن "خود معنی" ہو جبکہ ہمیں پتا ہے کہ وہ طاقت کے رشتوں، ریاستی تشریحات اور چنیدہ، انتخاب کردہ "حاموشیوں سے مشروط ہوتا ہے۔

اعلامیہ فلسطین اور کشمیر پر واضح اور بلند آواز میں بولتا ہے۔ بظاہر یہ اخلاقی جرات کی علامت ہے، لیکن ایسا ہر اعلان اپنے ساتھ "اخراج" بھی لیکر آتا ہے۔

یہاں سوال یہ نہیں کہ فلسطین اور کشمیر کیوں شامل ہیں، بلکہ یہ ہے کہ پاکستان کی داخلی صورتِ حال کیوں خارج ہے؟

یہ خاموشی خود ایک متن ہے۔ یہ کسی "بھول چوک، نادانستہ غلطی نہیں بلکہ یہ ایک "تشکیل دی کئی" ساخت کی گئی خاموشی ہے۔ یہ خاموش متن چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کچھ سچ ایسے ہیں جنہیں کہا نہیں جا سکتا، کیونکہ وہ طاقت کے موجودہ ڈھانچوں کو غیر مستحکم کر دیتے ہیں۔ یہ خاموشی ایک نشان، علامت، ٹریس کی طرح موجود ہے جو نہ مکمل طور پر غیر موجود ہے نہ ہی مکمل طور پر ظاہر ہے۔

جب اعلامیہ ریاستی جبر کو "باہر" (فلسطین، کشمیر) دیکھتا ہے اور "اندر" نہیں دیکھتا، تو وہ خود مرکز/حاشیہ (center/margin) کی وہی درجہ بندی دہرا رہا ہوتا ہے جسے وہ بظاہر چیلنج کر رہا ہے۔ اسی طرح "ہم، ادیب اور دانش ور" کا جملہ ایک ہمہ گیر " موضوع / سبجیکٹ کو طاہر کر رہا ہے۔ ایک ایسا "ہم" جو اختلاف، طبقاتی تفاوت، خوف، سنسرشپ اور جبر کے تجربات کو ہموار کر دیتا ہے۔

یہاں سوال یہ بنتا ہے کہ کیا واقعی سب ادیب یکساں........

© Daily Urdu (Blogs)