menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Asool e Fiqh, Jadeediat Aur Afaal e Insani

17 1
26.12.2025

اصول الشاشی کی "فصل فی النھی" میں بیان کیا گیا ہے کہ نہی دو طرح کی ہے: ایک وہ جو افعالِ حسیہ سے متعلق ہے اور دوسری "تصرفاتِ شرعیہ" سے نہی ہے۔ اس عبارت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امر شرعی کو بیان کرنے اور فعل سے متعلق کرنے سے پہلے افعالِ انسانی میں بالکل ابتدائی درجے کی ایک تقسیم کی گئی ہے۔ اس تقسیم میں مشاہدے اور فراست کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ افعالِ انسانی کی دو زمروں میں تقیید ان کی صراحت کے لیے ہے، تاکہ امر اور فعل کی نسبتوں میں ابہام کے امکان کو دور کیا جا سکے۔

افعال کی یہ تقسیم نظری نہیں ہے اور اس میں فعل انسانی کی تعریف/تعریفات وغیرہ نہیں دی گئیں۔ تعریف کی ضرورت وہاں پیش آتی ہے جہاں زیربحث امور میں تجردات اور تصورات داخل ہو جائیں اور ابہام ایک واقعی امکان بن جائے۔ چیزیں جب تک حسی، طبعی اور مشاہداتی رہیں تعریفات اور استدلال غیرضروری ہوتے ہیں۔ جونہی ہم طبائع میں کارفرما قوتوں اور غیر مشاہداتی اجزا کی طرف پیش رفت کرتے ہیں تعریفات اور نظری استدلال کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ وہاں اشیا کے ہونے اور اِس ہونے کی نسبتوں کو صرف تھیوری اور فارمولے میں ہی بیان کیا جا سکتا ہے۔

متن میں مذکور افعال حسیہ سے مراد انسان کے وہ طبعی افعال ہیں جن کے وقوع کا سبب شریعت نہیں ہے بلکہ انسانی زندگی کی طبعی (معاشی اور سماجی) ساخت، اس کے تقاضے اور جبر ہے مثلاً کھیتی باڑی کرنا، ملازمت کرنا، دکانداری کرنا، لکڑی کا کام کرنا، کبوتر پالنا، بانسری بجانا، کشتی کرنا، شطرنج کھیلنا، چارہ بیچنا، پنچر لگانا، تدریس کرنا، سیاست کرنا، جنگ کرنا، جھوٹ بولنا، زنا کرنا، شراب پینا، تعدی کرنا اور اسی طرح کے لاکھوں افعال ہیں جو ہر انسانی معاشرے میں طبعاً آفاقی طور پر واقع ہوتے ہیں۔ یاد رہے کہ شعور میں "ہونا" جاننے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جبکہ وجود میں "ہونا" کرنے میں ظاہر ہوتا ہے۔ شریعت ان میں سے کچھ افعال پر نہی وارد کرتی ہے جس کی تفصیل اس فصل میں بیان کی گئی ہے۔

دوسری نہی وہ ہے جو تصرفاتِ شرعیہ کے اندر واقع ہوتی ہے۔ "تصرف" چونکہ عملی ہوتا ہے اور یہاں "تصرفاتِ شرعیہ" سے مراد امر الہی کے انسانی ارادے اور اختیار میں ایسے تصرفات ہیں جو کچھ افعال کے قیام اور وقوع کا سبب بنتے ہیں اور جن کے وقوع اور قیام کی واحد بنیاد تصرفِ شرعی ہے۔ تصرفاتِ شرعیہ سے پیدا ہونے والے افعال انسانی معاشروں میں طبعی طور پر واقع اور موجود نہیں ہوتے بلکہ وہ ایک نیا قیام ہوتے ہیں۔ ان افعال کی ہیئت حکمی اور غایت کا تعلق امر سے ہوتا ہے اور دونوں توقیفی ہیں۔ ان افعال میں زمانیت اور مکانیت کے پہلو بھی داخل ہوتے ہیں اور نہی سے ان کی تصریحاتِ مزید قائم کر دی جاتی ہیں۔ نماز پڑھنا، روزہ رکھنا وغیرہ ایسے افعال ہیں جو تصرفاتِ شرعیہ سے قائم ہوتے ہیں۔ تصرفات شرعیہ میں کارفرما نہی، امر میں ملفوف ہوتی ہے اور امر کی صراحت اور تنقیح کو بروئے کار لاتی ہے۔ مثلاً نماز کے حوالے سے توقیت امر میں موجود ہوتی ہے اور نہی سے اس کی مزید تصریحات قائم کر دی جاتی ہیں۔

"تصرفاتِ شرعیہ" سے یہ معلوم ہوگیا کہ یہ افعال کی ایک بالکل نئی تقویم ہے جو طبعی طور پر انسانی معاشروں میں واقع اور موجود نہیں ہوتی اور صرف امرِ شرعی سے قائم ہوتی ہے۔ شریعت فعل کی........

© Daily Urdu (Blogs)