Khwahish Ki Upri Manzil, Rafaqat Hayat Ke Nuqta Afreen Afsane
خواہش کی اُوپری منزل، رفاقت حیات کے نکتہ آفریں افسانے
گزشتہ دَور کی کہانی چالاک تھی، موجودہ دَور کی کہانی دانا ہے۔ گزشتہ زمانے کی کہانی چونکاتی تھی، موجودہ زمانے کی کہانی سوچنے پر مجبورکرتی ہے۔ ان کا جوہری فرق یہ ہے کہ گزشتہ وقتوں کی کہانی عموماً ایک نکتہ ذہن میں رکھ کر لکھی جاتی تھی جو اخیر میں جاکر کھلتا تھا اور قاری کو چونکاتا یا حیران کرتا تھا جب کہ آج کی کہانی بیش تر اوقات اپنے اندر سوچنے اور تفکر کا ایسا سامان رکھتی ہے جو کھلتا چلا جاتا ہے اور اُس کا تاثر افسانے کے ظاہری حُجم سے بڑھ کر ہوتا ہے۔ اگر اس کی اُردو ادب سے مثال دینی ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ سعادت حسن منٹو اُس دور کا آدمی تھا اور نیرمسعود اِس دور کے آدمی ہیں۔
ایڈگر ایلن پو، موپساں، اوہنری وغیرہ چونکاتے زیادہ تھے جب کہ کاروَر، مارگریٹ ایٹ وُوڈ، ایلس منرو سوچنے پر زیادہ مجبور کرتی ہیں۔ البتہ چند ادیبوں میں ان دو جواہر کی خوب صورت اور متناسب آمیزش نظر آتی ہے جیسا کہ اُن کے چیخوف، ہمارے غلام عباس۔ ولیم ٹریور نے جدید کہانی کے بارے میں کہا "یہ ضروری نہیں کہ کہانی میں پلاٹ ہو مگر یہ ضروری ہے کہ اس میں کہنے کی کوئی بات، کوئی نکتہ ضرور ہو"۔
ایک اور پہلو سے بیان کرتے ہوئے ایلس منرو نے جدید افسانے کو ایک سیدھی سڑک کی بجائے ایک گھر سے تشبیہ دی، ایک ایسا گھر جس میں قاری داخل ہوتا ہے، گھومتا پھرتا ہے اور جب نکلتا ہے تو بدل چکا ہوتا ہے۔ جدید کہانی ایک ایسے گھر سے مماثل ہے جو آباد ہے اور بھلے ادیب اس کے کمروں اور مکینوں کو پوری طرح بیان نہ بھی کرے تب بھی اس کا بھرپور تاثر قاری پر اس سے نکل جانے کے بعد بھی قائم رہے، کچھ تاثر قاری کے اپنے کارگر تخیل کا، زیادہ مصنف کے تخلیق کردہ دیار کا۔
جدید کہانی میں خاموشیاں اور توقف بھی ایک مرکز کی جانب اشارہ کرتے ہیں، عمارت کی وہ خالی جگہیں ہیں جو اس کے اور خدوخال اُبھارنے میں معاون ہوتی ہیں۔ ماضی کا مصنف کسی منفرد خیال اور یک دم جھنجھوڑ دینے والے واقعے کی تلاش میں رہتا تھا جب کہ حاضر کا مصنف اس امر سے بہ خوبی واقف ہے کہ زندگی ایسے چونکادینے والے واقعات سے تشکیل نہیں پاتی بلکہ زیادہ........
