menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Khof Insaniyat Hai, Hosla Qayadat Hai

19 4
05.01.2026

خوف انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ یہ وہ جبلّت ہے جو انسان کو خطرے کا احساس دلاتی ہے، اسے رکنے، سوچنے اور خود کو بچانے پر آمادہ کرتی ہے۔ خوف اگر نہ ہو تو انسان لاپروا ہو جائے، آگ میں کود پڑے، اندھیرے میں آنکھ بند کرکے چلنے لگے۔ اسی لیے خوف کو کمزوری نہیں کہا جا سکتا، یہ انسانی بقا کا پہلا زینہ ہے۔ مگر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں خوف انسان کو مفلوج کر دے، اسے حق کہنے، درست فیصلہ کرنے اور ذمہ داری اٹھانے سے روک دے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہر بڑے دورِ زوال میں خوف نے ہی انسانوں کو خاموش رکھا اور ہر بڑے دورِ عروج میں کسی ایک نے خوف کے باوجود قدم بڑھایا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں خوف انسانیت رہتا ہے اور حوصلہ قیادت میں ڈھل جاتا ہے۔

قیادت کا مطلب خوف سے خالی ہونا نہیں، بلکہ خوف کے ساتھ جینا سیکھنا ہے۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ اسے کبھی ڈر نہیں لگا، وہ یا تو جھوٹ بول رہا ہے یا خود فریبی میں مبتلا ہے۔ نبیوں کو بھی خوف آیا، صحابہؓ کو بھی اندیشے لاحق ہوئے، عظیم جرنیلوں کے ہاتھ بھی جنگ سے پہلے کانپے، بڑے مفکرین بھی شب کی تنہائی میں سوالوں سے لڑتے رہے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ انہوں نے خوف کو فیصلہ ساز نہیں بننے دیا۔ انہوں نے خوف کو محسوس کیا، مانا، مگر اس کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ یہی وہ باریک لکیر ہے جو عام انسان اور قائد کے درمیان کھنچ جاتی ہے۔ عام آدمی خوف کے........

© Daily Urdu (Blogs)