Ijtehad: Deen Ki Fikri Zindagi
اجتہاد: دین کی فکری زندگی
دینِ اسلام کی اصل قوت شاید یہی ہے کہ یہ کسی ایک زمانے، کسی ایک معاشرے یا کسی خاص عہد کے انسان کے لیے نہیں آیا، بلکہ قیامت تک آنے والے ہر انسان کے لیے ہدایت کا سرچشمہ ہے۔ زمانہ بدلتا ہے، حالات بدلتے ہیں، معاشرتی تقاضے بدلتے ہیں، علم و تحقیق کے دائرے وسیع ہوتے ہیں، انسانی زندگی کے مسائل کی نوعیت بدلتی رہتی ہے، مگر قرآن و سنت کی بنیادی ہدایات اپنی جگہ قائم رہتی ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اسلام کی آفاقیت اپنی پوری معنویت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔
اسلام انسان کو محض چند مخصوص حالات کے لیے احکام نہیں دیتا بلکہ اصول عطا کرتا ہے، سمت متعین کرتا ہے اور پھر عقل و فہم کو اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں ان اصولوں کی روشنی میں نئے مسائل کا حل تلاش کرے۔ اسی علمی اور فکری عمل کا نام اجتہاد ہے۔ اجتہاد دراصل دین میں تبدیلی کا نام نہیں بلکہ دین کے ابدی اصولوں کو بدلتے ہوئے حالات پر منطبق کرنے کی سنجیدہ، علمی اور ذمہ دارانہ کوشش ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر اجتہاد کا دروازہ علمی بصیرت اور شرعی اصولوں کے ساتھ کھلا رہے تو اسلام ہر نئے دور کے انسان سے زندہ مکالمہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
لیکن اجتہاد کا ذکر آتے ہی بہت سے سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ اجتہاد آخر ہے کیا؟ کیا ہر شخص اپنی عقل کے مطابق قرآن و سنت سے کوئی حکم اخذ کرسکتا ہے؟ اجتہاد کرنے کے لیے کن علوم میں مہارت ضروری ہے؟ ایک مجتہد کے لیے قرآن، حدیث، فقہ، اصولِ فقہ، عربی زبان، ناسخ و منسوخ، عام و خاص، مطلق و مقید اور دیگر متعلقہ علوم کا کتنا علم درکار ہے؟ پھر یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر مختلف اہلِ علم ایک ہی مسئلے میں مختلف اجتہادی آرا قائم کریں تو عام مسلمان کس رائے کو اختیار کرے؟
یہی وہ سوالات ہیں جن کے باعث اجتہاد کے اس نہایت اہم اصول کے گرد کبھی........
