menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Federalist Number 48, Iqtidar Hamesha Phailna Chahta Hai

27 0
17.08.2026

فیڈرلسٹ نمبر 48، اقتدار ہمیشہ پھیلنا چاہتا ہے

امریکہ کے آئین کی تشکیل کے دوران جن سیاسی اور فکری مباحث نے جدید ریاستی نظام کی بنیادیں استوار کیں، ان میں جیمز میڈیسن کا شمار نمایاں ترین مفکرین میں ہوتا ہے۔ فیڈرلسٹ مضامین کے سلسلے میں ان کا تحریر کردہ فیڈرلسٹ نمبر 48 ایک مختصر مگر نہایت گہرا مقالہ ہے جس میں انہوں نے اقتدار کی فطرت اور اس کے پھیلاؤ کے رجحان پر روشنی ڈالی۔ میڈیسن کا بنیادی استدلال یہ تھا کہ حکومت کے مختلف شعبوں کے درمیان محض نظریاتی یا آئینی حدود مقرر کر دینا کافی نہیں ہوتا، کیونکہ اقتدار اپنی فطرت میں توسیع پسند ہوتا ہے۔

اگر کسی ادارے کو موقع ملے تو وہ اپنی متعین حدود سے تجاوز کرتے ہوئے مزید اختیارات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی کامیاب سیاسی نظام کے لیے صرف اصولوں کا اعلان کافی نہیں بلکہ ایسے عملی انتظامات بھی ضروری ہیں جو اقتدار کے پھیلاؤ کو روک سکیں۔ میڈیسن نے انسانی تاریخ اور سیاسی تجربات کا جائزہ لے کر یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ریاستی ادارے خواہ کتنے ہی نیک مقاصد کے لیے قائم کیے جائیں، ان کے اندر موجود افراد بالآخر زیادہ اختیار اور اثر و رسوخ حاصل کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسی لیے آئینی ڈھانچے میں ایسے حفاظتی اقدامات ناگزیر ہیں جو اقتدار کو اس کی حدود میں مقید رکھ سکیں۔

فیڈرلسٹ نمبر 48 کو سمجھنے کے لیے اس زمانے کے سیاسی پس منظر کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔ امریکی انقلاب کے بعد مختلف ریاستوں نے اپنے اپنے آئین مرتب کیے تھے اور ان میں سے اکثر میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ کے درمیان اختیارات کی علیحدگی کا اصول درج تھا۔ بظاہر یہ ایک مثالی انتظام محسوس ہوتا تھا، لیکن عملی تجربے نے دکھایا کہ صرف آئینی الفاظ کسی ادارے کو دوسرے اداروں پر غلبہ حاصل کرنے سے نہیں روک سکتے۔ میڈیسن نے خاص طور پر اس حقیقت کی نشاندہی کی کہ عوامی نمائندہ ادارے، یعنی قانون ساز اسمبلیاں،........

© Daily Urdu (Blogs)