menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Koi Mari Kar Jaye Te Mar Nai Jayi Da

16 6
previous day

لاہور کی ایک نجی جامعہ میں طالبہ کی جامعہ حدود میں خود کشی کی کوشش کی خبر میڈیا کی زینت بنی۔ تازہ ترین اطلاعات تک بچی کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ متعلقہ جامعہ کے رجسٹرار نے میڈیا بریفنگ میں واضح کیا کہ بچی کے تعلیمی و معاشی ریکارڈ میں کوئی کمی یا سقم نہ ہے۔ ذہنی صحت (مینٹل ہیلتھ) پوری دنیا میں ایک مجموعی مسئلہ ہے، جس کے باعث ایسے مسائل کا ہونا فطری رویہ ہے۔

ذہنی صحت جسکا براہ راست تعلق انسانی نفسیات سے منسلک کیا جاتا ہے، جبکہ سماجی عناصر اس نفسیات کو ترتیب دینے میں مکمل ذمہ دار ہیں۔ ایک طالبعلم کی ذہنی صحت کے ساتھ کھلواڑ بچے کی شعوری عمر کے آغاز سے شروع کر دیا جاتا ہے۔ محترم وقار احمد صاحب نے اس زاویہ کو اساتذہ کی عزت و تکریم کے چرچوں سے منسوب کیا۔ جس کے نتیجے میں بچے اپنے استاد کو آئیڈیلائز کرتے ہیں۔ جبکہ استاد بھی اسی قوم اور قبیل کاحصہ ہیں، اسی سماجی منافقت اور استحصال کا لبادہ اوڑھے شعبہ تدریس سے منسلک ہیں۔ جب طالبعلم اپنے آئیڈیل کی شخصیت میں منافقت اور جھول دیکھتا ہے تو اسکی ذہنی صحت پر پہلے وار کا آغاز ہو جاتا ہے۔

بچے کی ذہنی صحت سے کھلواڑ کرنے کی دوسری اکائی اسکے والدین ہوتے ہیں۔ جو نہ صرف بچے کی پیدائش سے لے کر اپنی قبر کے سفر تک بچے کے ذہنی تالے کو اپنی چابی سے کھولنے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ والدین اپنی تعلیمی، معاشی و سماجی ناکامیوں کا بدلہ اپنی اولاد سے، ان تمام خوابوں کی تکمیل کی چتاؤنی دے کر پورا کرتے ہیں۔ جن کو پورا کرنے میں وہ ناکام رہے۔

چوہا دوڑ (ریٹ ریس) جس کا ہر برصغیری مزاج رکھنے والے والدین لازماً حصہ دار ہوتے ہیں۔ اس چوہا دوڑ میں، جنریشن وائی کے تمام بچے بھی اپنے اپنے زماں و وسائل میں دوڑتے رہیں۔ جو کامیاب ہو گئے وہ خاندان و سماج کے مہذب بچے کہلائے۔ جن کے پاؤں، سماج کی روایات کے جوتوں میں پورے نہ آ سکے، انکو نالائق، نکمّے، آوارہ گرد کے خطابات سے نوازا گیا۔

یہ چوہا دوڑ اور اسکا دائرہ کار فقط تعلیمی میدان تک محدود نہیں رہتا۔ ہر جماعت میں نمایاں درجہ اور شاندار........

© Daily Urdu (Blogs)