menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Pir Ke Din Kya Hoga?

16 0
yesterday

مذاکرات کا دوسرا اور فیصلہ کن دور پیر والے دن سے اسلام آباد میں شروع ہونے والا ہے۔ حالیہ مشرق وسطیٰ کی جنگی صورت حال نے سارا نقشہ بدل دیا ہے۔ ایران کی جانب سے ابنائے ہرمز کو بھی مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے۔ بلاشبہ پاکستان ایک طاقتور اور سافٹ امیج رکھنے والا ملک ابھر کر سامنے آیا ہے جو پہلے سے یکسر مختلف ہے۔ پوری دنیا میں پاکستان کے مثبت امیج کی بات ہو رہی ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں بعض اوقات ایسے لمحات آتے ہیں جب ایک جملہ، ایک بیان یا ایک سفارتی اشارہ پورے خطے کی حرکیات کو سمجھنے کی کنجی بن جاتا ہے۔ ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کا یہ کہنا کہ ایران۔ امریکہ کشیدگی کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان نے کردار ادا کیا، ایک ایسا ہی بیان ہے جسے سرسری انداز میں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

حقیقت یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست ہمیشہ کثیرالجہتی (multi-layered) رہی ہے۔ ایران، امریکہ، لبنان اور اسرائیل کے درمیان کسی بھی نوعیت کی کشیدگی یا مفاہمت میں اگرچہ متعدد ریاستیں، خفیہ چینلز اور سفارتی رابطے بیک وقت متحرک ہوئے لیکن اگر صرف پاکستان کا نام سامنے آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام آباد نے کم از کم پسِ پردہ کسی سطح پر ایک قابلِ ذکر سفارتی کردار ادا کیا ہوگا خواہ وہ براہِ راست ہو یا بالواسطہ۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی کی ایک دیرینہ خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ بیک وقت مختلف بلاکس کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتا ہے۔ ایک طرف اس کے روابط ایران کے ساتھ مذہبی، جغرافیائی اور تاریخی بنیادوں پر قائم ہیں تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ جیسے تیسے اس کے تزویراتی اور دفاعی تعلقات دہائیوں پر محیط ہیں۔ یہی کسی حد تک "بیلنسنگ ایکٹ" پاکستان کو ایسے نازک لمحات میں ایک ممکنہ ثالث یا سہولت کار (facilitator) کے طور پر پیش کرتا ہے۔

اگر واقعی پاکستان نے ایران۔ امریکہ کشیدگی کے بعد لبنان۔ اسرائیل جنگ بندی کے لیے سفارتی راہ ہموار کی ہے تو اس کے تزویراتی اثرات نہایت اہم ہو سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ پاکستان کے لیے ایک سافٹ پاور کامیابی ہوگی۔۔ یعنی ایک ایسا کردار جس میں جنگ نہیں بلکہ مکالمہ، اعتماد سازی اور پسِ پردہ رابطے فیصلہ کن ثابت ہوں۔ اس سے پاکستان کی عالمی ساکھ ایک "سکیورٹی اسٹیٹ" ملک کے بجائے "پرامن ملک" کے طور پر ابھری ہے جو ایک انتہائی ذمہ دار ایٹمی پاور ہے۔

سفارتی سطح پر اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ پاکستان کو مستقبل میں بھی ایسے تنازعات میں ثالثی کے مواقع مل سکتے ہیں۔ عالمی طاقتیں عموماً ایسے ممالک کو ترجیح دیتی ہیں جو مختلف فریقین کے درمیان قابلِ قبول ہوں۔ اگر اسلام آباد یہ اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ اس کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک طویل المدتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔

معاشی پہلو بھی کم اہم نہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کا مطلب تیل کی قیمتوں میں استحکام اور عالمی تجارتی راستوں میں بہتری ہے۔ چونکہ پاکستان ایک درآمدی معیشت ہے اور توانائی پر انحصار رکھتا ہے اس لیے خطے میں استحکام براہِ راست اس کی معیشت کے لیے مثبت ثابت ہو سکتا ہے۔ مزید برآں پاکستان ایک زرعی ملک ہے تو اپنی زرعی اجناس دنیا بھر کی منڈیوں میں براہ راست بھیج کر نہ صرف اچھا خاصا زرمبادلہ بچا سکتا ہے بلکہ پاکستان میں کاشتکاروں کے معاشی حالات میں بھی خاطرخواہ بہتری آئے گی۔ اگر پاکستان خود کو ایک ذمہ دار اور موثر سفارتی کردار کے طور پر منواتا ہے تو غیر ملکی سرمایہ کاری اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات میں بھی بہتری آ سکتی ہے۔

سیاسی سطح پر بھی اس کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔ داخلی طور پر یہ ایک بیانیہ مضبوط ہو سکتا ہے کہ پاکستان صرف اپنے مسائل میں الجھا ہوا ملک نہیں بلکہ عالمی سطح پر ایک فعال اور بااثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم یہاں احتیاط بھی ضروری ہے۔۔ ایسے دعووں کو ضرورت سے زیادہ بڑھا چڑھا کر پیش کرنا الٹا نقصان دہ ہو سکتا ہے کیونکہ بین الاقوامی سفارت کاری میں خاموشی اور توازن ہی اصل طاقت ہوتے ہیں۔

یہاں ایک اہم سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا یہ کردار مستقل بنیادوں پر برقرار رکھا جا سکے گا؟ کیونکہ ایک وقتی کامیابی کو پائیدار اثر میں بدلنے کے لیے مسلسل اور محتاط سفارت کاری درکار ہوتی ہے۔

آخر میں بات وہی ہے کہ ہر بیان ایک حقیقت نہیں ہوتا مگر ہر بیان کے پیچھے ایک حقیقت ضرور ہوتی ہے۔ اگر محمد باقر قالیباف کا یہ دعویٰ درست سمت کی نشاندہی کرتا ہے تو یہ پاکستان کے لیے ایک موقع ہے اپنی سفارتی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا، عالمی اعتماد حاصل کرنے کا اور خود کو ایک ذمہ دار علاقائی طاقت کا۔ اب یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر ہمیں یہ موقع ملا ہے، تو ہم اس سے کس قدر صنعتی، تجارتی، معاشی، سفارتی اور زرعی فوائد اٹھا پائیں گے؟


© Daily Urdu (Blogs)