حکومتِ پنجاب! یہ 174 نہیں، نظام کا قتل ہے
سروننگ ڈی ایس پی کے ہاتھوں بیوی اور نوعمر بیٹی کا قتل یہ محض ایک ماں بیٹی کی موت نہیں، یہ ریاستی نظام کی اخلاقی موت ہے۔جب ایک ڈی ایس پی کی بیٹی اور بیوی کی لاش مل جائے، حالات واضح طور پر مشکوک ہوں، اور اس کے باوجود پولیس صرف دفعہ 174 کی کارروائی پر اکتفا کرے تو سوال یہ نہیں رہتا کہ قتل ہوا یا نہیں۔سوال یہ بنتا ہے کہ قانون کس کے لیے ہے اور کس کے لیے نہیں؟دفعہ 174 تو لاوارث لاش، حادثاتی موت یا قدرتی انتقال کے لیے ہوتی ہے۔ مگر یہاں تولاشیں موجود ہیں خاندان موجود ہے۔پس منظر موجود ہے اور سب سے بڑھ کر بااثر وردی والا باپ موجود ہے تو پھر ایف آئی آر کیوں نہیں؟ پولیس یہ بتائے کہ اگر یہی لاشیں کسی غریب محلے سے ملتیں، اگر یہی باپ وردی کے بجائے مزدور ہوتا، تو کیا تب بھی 174 کافی سمجھی جاتی؟ یا فوراً قتل کا مقدمہ، گرفتاری اور میڈیا بریفنگ شروع ہو جاتی؟ یہ کہنا اب سادہ لوحی ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ تحقیقات کو دفن کیا جا رہا ہے۔ یہ کیس اس خطرناک روایت کو بے نقاب کرتا ہے جس میں پولیس اپنے افسران کے خلاف........
