ادیب صرف ملتان نہیں، پورے صوبے میں ہیں!
ماضی قریب میں صوفی غلام مصطفےٰ تبسم کے حوالے سے الحمراء لاہور میں ایک تقریب منعقد ہوئی تو جناب مجیب الرحمن شامی اس کی صدارت کر رہے تھے، تقریب کی نظامت میرے ذمہ تھی۔ میں نہ یہ نکتہ اٹھایا کہ لاہور کی کوئی سڑک بھی صوفی تبسم کے نام سے موسوم نہیں حتیٰ کہ الحمراء کے کسی ہال کو بھی اُن کے نام سے منسوب نہیں کیا گیا، حالانکہ الحمراء اُن کے خیال کی تعبیر ہے۔اس پر شامی صاحب نے کہا تھا کہ پنجاب حکومت کو صوفی تبسم جیسی بڑی ادبی شخصیت کے نام پر کوئی شاہراہ یا الحمراء کا ایک ہال ضرور وقف کرنا چاہئے تاہم اس پر ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ادیبوں شاعروں کا ایک بڑا دُکھ یہ بھی ہے کہ انہیں زندگی میں وہ پذیرائی نہیں ملتی جو اُن کے تخلیقی کام کی وجہ سے ملنی چاہئے حتیٰ کہ وفات کے بعد بھی انہیں ماضی کی گرد میں دبنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ تاہم ایک روایت جو ملتان سے شروع ہوئی ہے اگر وزیراعلیٰ مریم نواز اس کا دائرہ پورے پنجاب تک پھیلا دیں تو میں سمجھتا ہوں، پنجاب اس حوالے سے بھی دوسرے صوبوں کے لئے مثال بن جائے گا۔یہ ایک ایسا کام ہے جس کے لئے پنجاب حکومت کو فنڈز بھی مختص نہیں کرنے پڑیں گے اور کوئی بہت زیادہ تردد درکار نہیں ہو گا۔ کمشنر ملتان عامر کریم خان اس کام کو بہت آگے بڑھا چکے ہیں اور اس حوالے سے ملتان دیگر ڈویژنوں کے لئے ایک مثال بن گیا۔پنجاب کے 41 اضلاع اور دسوں ڈویژن ہیں اس کام کو بیکوقت تمام اضلاع میں شروع کیا جاتا ہے اور اس کے لئے بہت بڑے پیمانے پر انتظامات........
