وینزویلا۔ٹرمپ ورلڈ آرڈر کا پہلا شکار
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورمیں امریکی ورلڈ آرڈر نے جو نئی کروٹیں لی ہیں، وہ سب دیکھ رہے ہیں، کچھ عرصہ پہلے میں نے اسی کالم میں لکھا تھا کہ ہمیں اب ٹرمپ کی دنیا میں رہنا پڑے گا۔ دنیاکا ورلڈ آرڈر اب ٹرمپ کا ورلڈ آرڈر کہلائے گا۔پہلے سے موجود ورلڈ آرڈرمیں ایک اقوام متحدہ اور ایک سلامتی کونسل ہوتی تھی۔اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا تھا کہ آزاد ملکوں کے اقتدارِ اعلیٰ کا خیال رکھا جائے، اُن کی حدود میں مداخلت نہ کی جائے،ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کی اس روایت کو آگے بڑھایا کہ اپنے مفادات پر حملے کا نام دے کر کسی بھی ملک پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔اُس نے مشرقِ وسطیٰ اور افغانستان میں اپنے اسی حق کو زبردستی استعمال کیا۔یہ اور بات ہے اُسے کئی جگہ منہ کی کھانی پڑی۔ خاص طور پر افغانستان میں اُس کی تمام تدبیریں اُلٹی پڑ گئیں۔وہاں سے اسے بھاگنا پڑا اور افغانوں کے ہاتھوں شکست اُس کے ماتھے پر داغ بن گئی مگر اِس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ اُس نے اپنی یہ روش چھوڑ دی یہ روش تو وہ چھوڑ ہی نہیں سکتا،کیونکہ دنیا پر اپنی سپر پاوری کا ڈنگا بجانے کے لئے اُسے یہ سب کچھ تو کرنا ہی پڑتا ہے۔ایک زمانہ تھا کہ امریکہ اپنے اردگرد کے ممالک کو کچھ نہیں کہتا تھا اور اُس کا سارا زور ایشیاء، مشرقِ وسطیٰ یا روسی ریاستوں پر چلتا تھا۔ کہا یہ جاتا تھا کہ امریکہ میں چونکہ شمالی اور جنوبی امریکہ کے رہنے والوں کی اکثریت ہے اور پھر وہ سب ممالک امریکہ کی سرحدی کمزوریوں سے بھی واقف ہیں اس لئے امریکہ اُن سے چھیڑ خوانی نہیں کرتا تھا۔امریکہ کے ہمسایہ ممالک اس سے کہیں غریب ہیں لیکن اُن کے پاس تیل اور معدنیات کی دولت بہت وافر ہے مگر یہ اُن کی بے........
