میرے زمانے کی نسل کب سبق سیکھے گی؟
ہماری نسل شاید وہ آخری نسل ہے جس نے خاموشی سے آواز تک کے سفر کو دیکھا ہے،جس نے تصویروں کو ساکت سے متحرک ہوتے پایا اور جس کے سامنے دنیا سکڑتی ہوئی محسوس ہوئی، حالانکہ اس سے پہلے اُس میں بہت پھیلاؤ تھا۔ مجھے وہ زمانہ یاد ہے جب ہمارے بزرگ عمرے یا حج پر جاتے تھے تو ہفتوں، بلکہ مہینوں اُن سے کوئی رابطہ نہیں ہوتا تھا، رخصت کرتے وقت یہ سمجھ لیا جاتا کہ آخری بار دیکھ رہے ہیں،مل رہے ہیں پھر نجانے ملنا نصیب ہو یا نہ ہو۔پھر دنیا بدلنے لگی تو پس منظر کے مناظر پیش منظر میں آنے لگے،آج یہ عالم ہے کہ دیارِ مقدس پر اُترتے ہی تصویریں اور ویڈیوز سامنے آ جاتی ہیں۔اِس فرق کو صرف ہماری نسل کے لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں۔آج کی نوجوان نسل اِس فرق سے واقف نہیں،اُس نے موبائل ٹیکنالوجی کے دور میں آنکھ کھولی ہے اور اسی میں جی رہی ہے۔ہماری نسل کو حالات و واقعات کے بارے میں جاننے کے لئے بی بی سی ریڈیو سننا پڑتا ہے کیونکہ ملکی ریڈیو تو ہمیں بے خبر رکھتا تھا۔ملکی میڈیا پر ہمیں الٹی تصویر دکھائی جاتی تھی، جسے سیدھا دیکھنے کے لئے ہم اِدھر اُدھر ٹامک ٹوئیاں مارتے تھے۔آج کے نوجوان اس مجبوری سے ماوراء ہیں۔ اُن کے ہاتھ میں سوشل میڈیا ہے جو انہیں پَل پَل کی خبر دیتا ہے۔اس نسل کو بھی اگر کوئی ہماری نسل کی طرح اندھیرے میں رکھنا چاہتا ہے یا اپنی پسند کی خبر دینا چاہتا ہے تو وہ حالات سے نابلد ہے۔وہ یہ نہیں جانتا کہ زمانہ قیامت کی چال چل چکا ہے۔آج آپ نوجوانوں سے مکالمہ کریں تو چند لمحوں ہی میں آپ کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں، اُن کی آنکھوں میں آنے والے سوال اور اُن کے چہروں پر آنے والے تاثرات، اُس حقیقت کو نمایاں کر دیتے ہیں کہ وہ آپ کی باتوں سے قائل نہیں........
