menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

  پی آئی اے کی نجکاری،کیا واقعی نئی اڑان بھرے گی؟

26 0
26.12.2025

پی آئی اے بک گیا ہے۔ اب کل سے کہانیاں جاری ہیں۔ دور و نزدیک کے قیافے لڑائے جا رہے ہیں، کیسے بکا، کس نے خریدا، کیا کچھ پس پردہ ہوا، یہ سب باتیں تادیر جاری رہیں گی۔میرا بنیادی سوال اس سے ہٹ کر ہے۔ کیا ہم بحیثیت قوم اس قابل ہیں کہ اپنے ایسے کمرشل ادارے چلا سکیں۔ ابھی دو روز پہلے وزیر اطلاعات کہہ رہے تھے پی ٹی وی کو سیاسی بھرتیوں کا گڑھ بنا دیا گیا ہے،حتیٰ کہ ایک مالی کو بھی پروڈیوسر بنایا گیا۔ ایک بندے کی ضرورت ہے تو دس بندے رکھے گئے، ایسے میں پی ٹی وی کیسے چل سکتا ہے۔خیر یہ تو پی ٹی وی کی بات درمیان آ گئی، لگتا ہے جلد یا بدیر اُسے بھی پرائیویٹائز کرنا پڑے گا۔ بھٹو نے جب اداروں کو قومیانے کا بڑا فیصلہ کیا،اُس کے اثرات کیا نکلے، بنک تباہ ہوئے،منافع میں جانے والے صنعتی یونٹس خسارے میں چلے گئے۔ سٹیل مل کا احوال بھی سامنے ہے جسے بے پناہ سیاسی بھرتیوں کے ذریعے تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا،جو حکومت بھی آئی اُس نے سب سے پہلے اس پر توجہ دی کہ زیادہ سے زیادہ اپنے کارکنوں اور حامیوں کو سرکاری اداروں میں کیسے کھپانا ہے۔ پی آئی اے بھی انہی بدقسمت اداروں میں سے ایک ہے۔ کہاں اُس کی شان و شوکت اور اڑان کہ دوسرے ملک اُس سے اڑان بھرنا سیکھتے تھے۔آج دنیا کی کئی کامیاب ایئر لائنز پی آئی اے کی مہارت اور تجربے کا نتیجہ ہیں،مگر جس طرح جہان اڑان بھرنے کے بعد آسمان کی وسعتوں میں پہنچ جاتا ہے،اور کوئی نقص پیدا ہو جائے تو اتنی ہی تیزی سے زمین کی طرف آتا ہے اسی طرح پی آئی اے بھی ہماری سیاسی و آمرانہ حکومتوں کا آسان ہدف بن کر زوال پذیر ہوتا چلا گیا۔ اس میں ایک یونین آ گئی اور جہاں........

© Daily Pakistan (Urdu)