We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

گونگے کی مٹھائی

33 30 0
02.05.2019

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ریاست خموشستان میں گونگے کا راج آ گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ گونگا بادشاہ بہت ہی اچھا بوائے تھا۔ تھوڑا نٹ کھٹ ضرور تھا کبھی اِدھر تیر برساتا تھا تو کبھی اُدھر توپ چلاتا تھا۔ سارے محلے کو آگے لگا رکھا تھا۔ نواب شاہ اور لاہور کے لڑکوں کو تو اس نے زچ کر کے رکھ دیا تھا۔ کسی زمانے میں نواب شاہ اور لاہور کے لڑکوں کا طوطی بولتا تھا مگر گونگا بوائے نے الزامات اور مقدمات سے ان کی بولتی بند کر دی۔ گونگے کی رمزیں گونگے کی ماں ہی جانتی ہے۔ پھر بھی گونگا کے کردار سے واضح ہوتا تھا کہ وہ ہر ایک سے چھیڑ چھاڑ کرتا تھا مگر بڑے گھر سے بنا کر رکھتا تھا، نہ اس پر علانیہ اظہارِ خیال کرتا تھا اور نہ ہی اشاروں کنایوں میں بھی ان کا ذکر کرتا تھا۔ حتیٰ کہ وہ بڑے گھر کی مداخلت پر بھی برا نہیں مناتا تھا اس کو علم تھا کہ گونگا کی اصل طاقت بڑے گھر کی حمایت تھی اور اس کا دور اسی وقت تک چلے گا جب تک اس کی وہاں بنی رہے گی۔

ہوا کچھ یوں کہ گونگے کا دور گونگے کی مٹھائی جیسا نکلا۔اس مٹھائی کا ذائقہ تو محسوس ہو رہا تھا مگر ذائقہ بتا نہیں سکتے تھے۔ گونگے کی مٹھائی کا ذائقہ رمزوں میں بتایا جائے تو مزہ نہیں آتا کیونکہ کہانی میں مزہ تب آتا ہے کہ کہانی میں زبان و بیان کی حلاوت ہو اور میٹھے میں بادام، الائچی اور زعفران کی آمیزش ہو۔ آج کا زمانہ بہرحال گونگے کی مٹھائی ہے۔

بڑے گھر کے لوگ گونگے کو سادہ سمجھتے تھے۔ اس کے ذریعے سے چاہتے تھے کہ کرپشن کا خاتمہ ہو اس کو آگے رکھ کر پرانی سیاسی قیادت کو ہٹایا جائے اصل اقتدار و اختیار........

© Daily Jang