We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close
Aa Aa Aa
- A +

پرنٹ بھی زندہ ہے اور قوم بھی

7 1 2
27.12.2018

تینوں ہالوں میں حال ماضی سے پُر جوش انداز میں دونوں ہاتھ ملارہا ہے۔

مستقبل دونوں کو ملتے دیکھ کر مسکرارہاہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حضور اکرم ؐ کے عشق۔ صحابہ کرام کی تعظیم۔ آئمہ عظام کی تکریم۔ اولیائے اللہ کی تسلیم کے قابلِ رشک مناظر قدم قدم پر ہیں۔

سقراط۔ ارسطو۔ افلاطون۔ غزالی۔ بوسینا۔ فارابی۔ رازی واقبال کی فکر سے ہم آہنگی کے مظاہر ہر گام ہیں۔ حافظ شیرازی۔ سعدی شیرازی۔ نظیری۔ بیدل سے عقیدتیں جگہ جگہ بکھری ہوئی ہیں۔

میر۔غالب۔مومن۔ داغ۔ ذوق۔ فیض۔ فراق۔ مجاز کے دلدادگان اوراقِ گم گشتہ تلاش کررہے ہیں۔

بلھے شاہ۔ باہو۔ میاں محمد بخش۔ شاہ لطیف۔ سچل سرمست۔ رحمان بابا کی سچائیوں کے مشتاق آنکھوں میں تجسس لیے اسٹال اسٹال گھوم رہے ہیں۔

حرف مطبوعہ صدائے انالحق بلند کررہا ہے۔

شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھائے۔ بچہ گاڑیوں میں لیے۔ بزرگوں کو پہیہ لگی کرسیوں پر لاتے۔ پورے حجاب میں صرف سر چادروں سے ڈھکے۔ شرٹ اور جینز میں۔ سیاہ برقعوں میں۔ تھری پیس سوٹ۔ شرٹ پینٹ۔ سفاری شیروانی۔ مگر سب کی منزل اوراق مطبوعہ۔ ایک کتاب جس کی آرزو سال بھر آزردہ رکھتی ہے۔ اب جب اس سے وصال کے امکانات ہیں تو کس قدر۔ دیوانہ وار ایک سے دوسرے ہال میں جارہے ہیں۔

مولانا مودودی۔ شوکت صدیقی۔ شیخ ایاز۔ عبداللہ حسین۔ قدرت اللہ شہاب۔ ممتاز مفتی۔ پیر حسام الدین راشدی۔ اشفاق احمد۔ ابراہیم جلیس۔ ماہر القادری۔ فاطمہ ثریا سب کی روحیں خوش ہیں کہ وقت کے فاصلے انہیں نئی نسل سے دور نہیں کرسکے۔

یہ روح پرور مناظر دیکھنے والوں میں سید خورشید شاہ۔ قمر الزماں کائرہ۔ گورنر عمران اسماعیل۔ خالد مقبول صدیقی۔ فیصل سبزواری۔ سید سردار احمد۔ خواجہ........

© Daily Jang