menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

انصار عباسی

21 0
saturday

پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے۔ اسکا آئین صرف ریاست کے انتظامی ڈھانچے کا تعین نہیں کرتا بلکہ اس کی نظریاتی سمت بھی واضح کرتا ہے۔ آئین یہ کہتا ہے کہ ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے گا جس میں مسلمان قرآن و سنت کے مطابق اپنی زندگی گزار سکیں۔ ایسے ملک میں اگر کسی خاتون کا عبایہ پہننا یا کسی اسلامی ادارے کا اپنے ملازمین کیلئے عبایہ کو ڈریس کوڈ کا حصہ بنانا پارلیمانی کمیٹی کی تشویش بن جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے: آخر یہ کون لوگ ہیں جو ہماری ترجیحات کا تعین کر رہے ہیں؟ کیا واقعی ملک کے سب سے بڑے مسائل یہی رہ گئے ہیں؟ کیا مہنگائی، بے روزگاری، ٹیکس کا غیر منصفانہ نظام، گرتی ہوئی معیشت، تعلیم اور صحت کی زبوں حالی اب پارلیمانی توجہ کے مستحق نہیں رہے؟ اگر ایک قائمہ کمیٹی، جس کا بنیادی کام مالیاتی امور کی نگرانی ہے، اسلامی بینکوں کے ڈریس کوڈ میں مداخلت کو اپنی ترجیح بنا لے تو اس پر سوال اٹھانا ہر شہری کا حق ہے۔ اس سے بھی زیااللّٰہدہ حیرت کی بات یہ ہے کہ اعتراض عبایہ پر کیا جا رہا ہے، لیکن ان یونیفارمز پر کبھی بحث نہیں ہوتی جو مکمل طور پر مغربی طرز کے ہیں۔ پولیس، ایف آئی اے، دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اور متعدد سرکاری محکمے خواتین کیلئے پینٹ اور شرٹ کو لازمی یونیفارم قرار دیتے ہیں۔ اگر لباس ہی پارلیمانی بحث کا موضوع بننا ہے تو پھر پیمانہ سب کیلئے ایک ہونا چاہیے۔ انتخابی تنقید ہمیشہ تعصب کا شبہ پیدا کرتی ہے۔ ہمارے ہاں تو اگر لازم پابندی ہے تو وہ اسلام کی اسلامی تعلیمات کی۔ ان لوگوں کا اصل مسئلہ عبایہ نہیں، بلکہ ذہنیت ہے۔ ایک ایسی ذہنیت جو مذہبی شناخت کو جدیدیت کی راہ میں رکاوٹ سمجھتی ہے۔ گویا اگر کوئی ادارہ اپنی اسلامی شناخت برقرار رکھنا چاہے تو اسے” ماڈرنائزیشن“کے نام پر اپنی روایات سے دستبردار ہونا چاہیے۔ سوال یہ ہے کہ جدیدیت کا پیمانہ آخر کس نے مقرر کیا ہے؟ کیا جدید ہونے کے لیے اپنی مذہبی شناخت کو کمزور کرنا ضروری ہے؟ کیا مغربی لباس جدیدیت ہے؟ اسلامی بینکاری محض سود سے اجتناب کا نام نہیں بلکہ ایک اخلاقی اور مذہبی تصور بھی ہے۔ اگر ایسے ادارے اپنی شناخت کے اظہار کے لیے کچھ داخلی ضابطے اختیار کرتے ہیں، اور وہ ملکی قانون سے متصادم نہیں بلکہ آئین پاکستان اور اسلام کی تعلیمات کی روح کے مطابق ہیں تو انہیں اس کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہم اکثر مغرب کی ان مثالوں سے متاثر ہوتے ہیں جن پر خود مغرب میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔ فرانس میں مذہبی لباس پر پابندیوں کو انسانی حقوق کے کارکنوں نے بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ لیکن پاکستان، جسکی بنیاد ہی ایک الگ تہذیبی اور مذہبی شناخت پر رکھی گئی، اگر اسی راستے پر چلنے لگے تو یہ محض پالیسی کا نہیں بلکہ فکری سمت کا سوال بن جاتا ہے۔ مغرب کی........

© Daily Jang