menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

شمالی ہند کا آخری 'موہیکن'

13 0
latest

شمالی ہند کا آخری 'موہیکن'

27 اپریل کو رضا کاظم اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ بعض شخصیات اپنے اندر ایک مکمل تہذیبی تسلسل سموئے ہوتی ہیں۔ رضا کاظم ایسے ہی تھے ،وکیل، فلسفی، موسیقار، اور سب سے بڑھ کر اس تاریخ کے "گواہ" جسے ہم اکثر سمجھنے سے قاصر رہے۔ 13 جنوری 1930 کو اترپردیش کے شہر سیتا پور میں پیدا ہونے والے رضا کاظم اس شمالی ہندوستانی تہذیب کے آخری وارث تھے، جہاں شائستگی، نفاست، دلیل اور فکری وقار زندگی کا جزوِ لاینفک تھے۔ ان کا انتقال محض ایک فرد کا بچھڑنا نہیں ہے، بلکہ اس 'گمشدہ تہذیب' کے آخری چراغ کا گل ہونا ہے جس کی روشنی میں کبھی برصغیر کا شعور پروان چڑھا تھا۔ رضا کاظم کی شخصیت کو دیکھ کر اکثر یہ گمان ہوتا تھا کہ وہ اپنی نسل کے آخری سپاہی ہیں۔ وہ اس مخصوص شمالی ہندوستانی علمی و تہذیبی دنیا کے نمائندے تھے جہاں گفتگو دلیل سے ہوتی تھی، اختلاف میں بھی ایک وضعداری ہوتی تھی۔ سیتا پور سے لاہور تک کا ان کا سفر محض ہجرت نہیں تھی، بلکہ ایک پوری تہذیبی بساط کو سمیٹ کر ایک ایسی جگہ لانے کی کوشش تھی جہاں اب اس طرح کی نفاست اور فکری گہرائی کے لیے زمین بنجر ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے ساتھ ہی اس عہد کا باقاعدہ اختتام ہو گیا ہے جو شمالی ہند کے "گنگا جمنی" مزاج اور لکھنوی رچاؤ سے عبارت تھا۔ رضا کاظم کی فکری زندگی کا سفر غیر معمولی تنوع اور گہرائی کا حامل رہا۔ ان کی سیاسی بیداری کا آغاز 1942 کی "ہندوستان چھوڑو تحریک" سے ہوا، جب وہ محض ایک طالب علم تھے اور پہلی بار برطانوی استبداد اور سرکاری تشدد کا سامنا کیا۔ قیامِ پاکستان کے بعد 1948 میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان میں شمولیت اختیار کی، مگر محض تین سال بعد 1951 میں اسے خیرباد کہہ دیا۔ یہ علیحدگی کوئی وقتی جذباتی ردعمل نہیں تھی، بلکہ ایک گہری فکری کشمکش کا نتیجہ تھی۔ وہ مارکسزم کو اپنے زمانے کا علم تو مانتے تھے، مگر ان کا خیال تھا کہ یہ نظریہ جدید انسانی نفسیات اور شعور کی پیچیدگیوں کو سمجھنے کے لیے ناکافی ہے۔ یہی وہ تڑپ تھی جس نے انہیں "منٹالوجی" (Mentology) جیسے اچھوتے تصور کی بنیاد رکھنے پر اکسایا۔ یہ ایک ایسا فکری نظام ہے جو انسانی ذہن اور جذباتی عمل کو محض حیاتیاتی (Biological) سطح پر نہیں بلکہ "پوسٹ بائیولوجیکل" سطح پر سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ان کے نزدیک کارل مارکس، سگمنڈ فرائڈ اور چارلس ڈارون میں سے کوئی بھی انسان کی مکمل تفہیم فراہم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ وکالت ان کے لیے محض ایک پیشہ نہیں بلکہ ایک ایسا ذریعہ تھی جس سے وہ اپنے نظریات، اپنی بغاوت اور اپنی انسان دوستی کو عملی شکل دے سکیں۔ اسی پیشے سے کمائی گئی دولت کا بڑا حصہ انہوں نے لاہور میں اپنے گھر پر قائم "سنجن نگر انسٹیٹیوٹ آف فلاسفی اینڈ آرٹس" پر صرف کیا۔ یہ ایک تجربہ گاہ تھی جہاں فلسفہ، موسیقی اور تعلیم کو یکجا کیا گیا۔ اسی ادارے کے تحت انہوں نے مزدور طبقے کی بچیوں کے لیے ایک ایسا اسکول قائم کیا جہاں انہیں نہ صرف مفت تعلیم، کتابیں اور ناشتہ فراہم کیا جاتا بلکہ تیراکی اور گھڑ سواری جیسی سہولتیں بھی میسر تھیں۔ ان کی شخصیت کا ایک اور خوبصورت رخ موسیقی تھا۔ انہوں نے "ساگر وینا" نامی ایک نیا ساز ایجاد کیا، جسے ان کی بیٹی نور زہرہ کاظم نے عالمی سطح پر متعارف کروایا۔ یہ ایجاد بھی دراصل ان کی خوبصورتی، توازن اور انسانی احساس کی دائمی تلاش کا حصہ تھی۔رضا کاظم کا سب سے اہم اور فکر انگیز تجزیہ 1947 کی تقسیم اور اس کے بعد پیدا ہونے والے سماجی بکھراؤ سے متعلق ہے۔ ان کے مطابق 1946 کا برصغیر ایک "تحریک" تھا—ایک اجتماعی شعور کا نام۔ یہ وہ لمحہ تھا جب لوگ ایک "مقناطیسی کشش" کے تحت ایک دوسرے کی طرف کھنچے چلے آتے تھے اور مذہب، ذات یا زبان کے بجائے ایک مشترکہ مقصد اہم تھا۔ مگر 1947 صرف ایک سیاسی تقسیم نہیں لایا، بلکہ ایک ایسا نفسیاتی زلزلہ لایا جس نے اس "سماجی مقناطیسیت" کو ہی توڑ دیا۔ فسادات اور قتل و غارت نے انسانوں کے درمیان موجود کشش کو خوف اور نفرت میں بدل دیا۔ رضا کاظم کے الفاظ میں، یہی وہ لمحہ تھا جب معاشرہ ختم ہو کرافراد میں تقسیم ہو گیا اور ہم کی جگہ"میں" نے لے لی۔ ہر شخص اپنی بقا کی جنگ لڑنے لگا۔ اس بکھراؤ کے نتیجے میں جو معاشرہ وجود میں آیا، رضا کاظم اسے ایک بکھرا ہوا معاشرہ کہتے تھے۔ ان کے نزدیک ایک حقیقی معاشرہ صرف افراد کا مجموعہ نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسا رشتہ ہوتا ہے جو باہمی ذمہ داری اور مشترکہ سمت سے عبارت ہو۔ جب یہ رشتہ ٹوٹ جائے تو لوگ Individuals Reduced بن جاتے ہیں۔ ایسے افراد جو صرف اپنی کامیابی اور مفاد تک محدود ہوں۔ اسی کیفیت نے ثقافتی زوال جنم دیا، جو محض فنونِ لطیفہ کا زوال نہیں بلکہ اخلاقی رویوں کا خاتمہ تھا۔ رضا کاظم نے ریاست کے بدلتے ہوئے کردار پر بھی گہری چوٹ کی۔ ان کے نزدیک 1946 میں ریاست کا تصور ایک "لوگوں کا گیراج" جیسا تھا—ایک ایسا ادارہ جو عوام کے مسائل حل کرے اور انہیں سہارا دے۔ مگر 1947 کے بعد ریاست ایک "پریڈ" بن گئی—اختیار، حکم اور طاقت کی نمائش۔ ایک ایسی ریاست جو اتحاد پیدا کرنے کے بجائے تقسیم کو برقرار رکھنے کے لیے طاقت استعمال کرتی ہے۔ یوں ریاست معاشرے کے ساتھ چلنے کے بجائے اس پر مسلط ہو گئی اور عوام اور مقتدرہ کے درمیان ایک کبھی نہ ختم ہونے والی خلیج پیدا ہو گئی۔ ان کی زندگی ہمیں سبق دیتی ہے کہ اصل میراث وہ "انسان" ہے جس کی تلاش میں انہوں نے پوری زندگی گزار دی۔ شاید ابھی بھی وقت ہے کہ ہم اس "گمشدہ معاشرے" کو دوبارہ تلاش کرنے کی کوشش کریں، ورنہ تاریخ ہمیں محض ایک ایسے تجربے کے طور پر یاد رکھے گی جو شروع تو ایک خواب سے ہوا تھا مگر جس کا انجام ایک بکھری ہوئی حقیقت پر ہوا۔


© Daily 92 Roznama