2026ء کے 20 جون سے یاد آیا ...
گزشتہ ہفتے جو آخری کالم لکھا تھا اس میں تفصیل سے بیان کرچکا ہوں کہ میری سوئی ان دنوں بھارتی بنگال کے سیاسی واقعات پر اٹکی ہوئی ہے۔ حال ہی میں وہاں کئی دہائیوں تک پھیلی جنونی ضد کے بعد مودی سرکار بالآخر بی جے پی کو بھاری اکثریت دلواکر صوبائی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ میں نے فرض کرلیا کہ مغربی بنگال کو ’’بآلاخر‘‘فتح کرلینے کے بعد مودی سرکار وہاں کی صوبائی حکومت کو بہتر حکومت فراہم کرنے پر توجہ دینے کو تنہاچھوڑ دے گی۔ ایسا مگر ہوا نہیں۔چند دن قبل بھارتی وزیر اعظم نے کلکتہ پہنچ کر اپنے مداحین کے ایک بھاری ہجوم سے خطاب کیا۔ اس خطاب کے لئے جو دن چنا گیا اس کی اہمیت یاد دلانا ضروری ہے۔ گزشتہ ہفتہ 20 جون 2026ء کو تھا اور 1947ء میں 20جون ہی کے دن برطانوی دور کی بنگال اسمبلی کا اجلاس ہوا تھا۔ وہاں 25کے مقابلے میں 58 ہندو اراکین نے اس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا کہ مغربی بنگال پاکستان میں شامل نہیں ہوگا۔ یوں قیام پاکستان کے بعد مغربی بنگال کے نام سے ایک علیحدہ صوبے کا قیام عمل میں لانا ممکن ہوا۔مذکورہ اجلاس سے قبل فقط مسلمان ہی نہیں ہندو سیاستدانوں کی معقول تعداد بھی یہ سوچ رہی تھی کہ بنگالی زبان اور ثقافت پنجاب کی طرح بنگال کا بٹوارہ ہونے نہیں دیں گی۔ بنگال مسلم لیگ کے قدآور رہ نما حسین شہید سہروردی بھی اس سوچ کے حامل تھے اور ان کے حامی دعویٰ کرتے ہیں کہ قائد اعظم نے بنگال کو یکجا رکھنے کے لئے انہیں اپنی کاوشیں جاری رکھنے کی اجازت دی تھی۔ بنگال ہی کا مگر ایک ہندو انتہا پسند رہ نما تھا۔ نام تھا اس کا شیاما پرساد مکھرجی۔ وہ بھارتیہ جن سنگھ کے بانیوں میں شامل تھا۔ آج کی بی جے پی اسی جماعت کی جدید شکل ہے۔20 جون 2026ء کے روز بھارتی بنگال پہنچ کر عوام سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے درحقیقت لوگوں کو یہ پیغام دیا کہ وہ 1947ء کی تقسیم آج بھی نہیں بھولا ہے۔ اس کی تقریر کا ایک ایک لفظ مسلمانوں کا نام لئے بغیر 1947ء کے........
