menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

2026 کا سوال

20 20
04.01.2026

پچھلے سال کی باقیات کے ساتھ ہم نئے سال میں قدم رکھ چکے ہیں۔ اسی طرح ہر سال، ہم نئے سال میں داخل تو ہوجاتے ہیں لیکن بہت کچھ پرانا ہوتا ہے۔ سالِ رواں میں ہم ایک ایسی دنیا میں قدم رکھ رہے ہیں، جو بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔

پچھلے ہزار برس میں ہونے والی تبدیلیوں اور پچھلی صدی میں رونما ہونے والی تبدیلیاں، سائنس اور ٹیکنالوجی میں تیزی لائیں مگر 2025 سے آنے والی تبدیلیاں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے شعبے میں جو تیزی لائیں ہیں، وہ ترقی کی راہ میں ایک بہت بڑا جمپ ہے۔

دس ہزار سالوں میں انسان غاروں سے نکلا، پھرکھیتی باڑی کی، پھر پیدل اور جانوروں کی سواریوں سے نکل کرگاڑیوں اور جہازوں تک پہنچا، پھرکمپیوٹرکی دنیا اور اسمارٹ فون کی دنیا کا سفر طے کرتے ہوئے چیٹ بوٹ کی دنیا تک پہنچا جو مصنوعی ذہانت کی ابتداء ہے، جس کی ایجاد پانچ سال پہلے ہوئی اور اب اس میدان میں مزید ترقی ہو رہی ہے۔

پہلے جو تبدیلیاں ایک صدی میں واقع ہوتی تھیں، اب وہ پانچ سال کے عرصے میں ہو رہی ہیں اور ایک انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ پشکن یہ کہتے ہیں کہ انسان اورکچھ بھی نہیں بس دو ٹانگوں والا جانور ہے، یعنی جانوروں میں وہ واحد جانور جوکہ دو ٹانگوں پر چلتا ہے۔

مصنوعی ذہانت کے ماہر یہ مانتے ہیں کہ اب انسانوں کے جسم بھی تبدیلی سے گزریں گے۔ اگلے ہزار سالوں میں شاید پہلے جیسا کچھ باقی نہیں رہے گا۔

ہمارے ملک کا شمار دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں نہیں ہوتا اور ہماری طرح کئی ممالک ہیں جو شدید چیلنجزکی زد میں ہیں۔ آنے والے چیلنجزکا سامنا کرنے کے لیے ہماری کوئی تیاری نہیں ہے اور شاید اب وقت بھی بہت کم ہے۔

ہم مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہت تیزی سے آگے بڑھ سکتے ہیں، جس کا شاید ہمیں بھی اندازہ نہیں۔ ہماری قوم 66% نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ صرف ضرورت ہے، ایک بہترین انفراسٹرکچر کی۔ اس کے بعد ہم اربوں........

© Express News